پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف قانون سازی ،اہم سیاسی جماعتوں نے اپنا فیصلہ سنادیا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مجبور ہوگئے

datetime 20  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن) اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلی عدلیہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قرارداد اور قانون سازی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد حکومت نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں توسیع کا فیصلہ واپس لے لیا جبکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بھی اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے

دو دن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دو ملاقاتیں کیں مگر یہ دونوں ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں کیونکہ پیپلز پارٹی نے واضح کردیا کہ جب تک کسی بھی قرارداد یا قانونی بل کا مسودہ انھیں نہیں دیا جاتا اس وقت تک وہ اس کی حمایت نہیں کر سکتے اور حکومت جلد بازی میں کوئی بھی اقدام نہ اٹھائے ورنہ اس کا نقصان ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن لیڈر کا مشورہ مان لیا ہے اور اب قومی اسمبلی اجلاس کو طول دینے اور قانون سازی کا معاملہ موخر کر دیا گیا حکومت قومی اسمبلی کا رواں سیشن کو جاری رکھنے کی خواہاں تھی مگر خورشید شاہ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے عدالتی فیصلوں کے خلاف قانون سازی نہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اب ویسے بھی وقت گزر گیا،کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہئیے ،خورشید شاہ نے کہا کہ ہم۔حمایت کر بھی دیں دیگر جماعتیں عدلیہ کے خلاف کسی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گی وزیر اعظم کو اس صورتحال میں اپوزیشن لیڈر کے موقف کی حمایت کرنا پڑی کیونکہ قانون سازی کی صورت میں اجلاس کو جاری رکھنا پڑتا اور اب حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس دو مارچ کو دوبارہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…