پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر اور حامد میر نے بنگلہ دیش جا کر حسینہ واجدسے ایوارڈ کیوں وصول کئے،کئی سال سے جاری پراپیگنڈے کوجواب مل گیا

datetime 18  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی حامد میر اپنے ایک کالم ’’عاصمہ جہانگیر کی آخری مسکراہٹ’’ میں لکھتے ہیں کہ 2013میں بنگلہ دیش کی حکومت نے ان معروف پاکستانیوں کو فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا جنہوں نے 1971کے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ ہم سب نے آپس میں مشورہ کیا اور اتفاق کیا کہ اگر پاکستان کا فوجی صدر جنرل پرویز مشرف 2002میں ڈھاکہ جاکر بنگلہ دیش کی’’تحریک آزادی‘‘ کے

شہداء کے مزار پر پھول چڑھا سکتا ہے اور وزیٹرز بک میں 1971کے فوجی آپریشن میں ہونے والی خونریزی پر اظہار افسوس کرسکتا ہے تو ہم اپنے اپنے والد کو دیا جانے والا ایوارڈ کیوں وصول نہیں کرسکتے جنہوں نے 1971میں خبردار کیا تھا کہ ووٹ کے تقدس کو بندوق سے پامال کیا گیا تو پاکستان ٹوٹ سکتا ہے۔ہم پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لانے کی خواہش لے کر ڈھاکہ پہنچ گئے۔ وہاں ایوارڈز کی تقریب سے ایک رات قبل مجھے اور عاصمہ جہانگیر کو ایک ٹی وی پروگرام میں بلایا گیا اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے خلاف چلنے والے وار کرائمز ٹربیونل کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ عاصمہ نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ آپ لوگ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کررہے۔وار کرائمز کے الزامات سیاسی لوگوں پر نہیں فوجی افسران پر تھے ۔ ان فوجی افسران کو شیخ مجیب نے ایک سہ فریقی معاہدے کے تحت معاف کردیا تھا پھر آپ سیاسی لوگوں پر مقدمہ کیوں چلارہے ہیں؟ میں نے بھی یہی کہا کہ مقدمہ چلانا ہے تو ان لوگوں پر چلائو جن کی فہرست شیخ مجیب نے پاکستانی حکومت کو دی تھی۔ غلام اعظم جیسے 90سالہ بزرگ پر مقدمہ چلانا ناانصافی ہے۔ہماری گفتگو سے بنگلہ دیشی حکومت ناراض ہوگئی دوسری طرف پاکستان میں کچھ سازشی لوگوں نے اس ٹی وی

پروگرام کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا اور عاصمہ جہانگیر کو ایک دفعہ پھر غداری کے الزام سے نوازا۔ شاید یہی وہ بےبنیاد الزامات تھے جن کے خوف سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے عاصمہ جہانگیر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کی جرأت نہ کی۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کا پچھلے ہفتے برین ہیمبرج کے باعث انتقال ہو گیا تھا ۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے ان کو سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…