پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر اور حامد میر نے بنگلہ دیش جا کر حسینہ واجدسے ایوارڈ کیوں وصول کئے،کئی سال سے جاری پراپیگنڈے کوجواب مل گیا

datetime 18  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی حامد میر اپنے ایک کالم ’’عاصمہ جہانگیر کی آخری مسکراہٹ’’ میں لکھتے ہیں کہ 2013میں بنگلہ دیش کی حکومت نے ان معروف پاکستانیوں کو فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا جنہوں نے 1971کے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ ہم سب نے آپس میں مشورہ کیا اور اتفاق کیا کہ اگر پاکستان کا فوجی صدر جنرل پرویز مشرف 2002میں ڈھاکہ جاکر بنگلہ دیش کی’’تحریک آزادی‘‘ کے

شہداء کے مزار پر پھول چڑھا سکتا ہے اور وزیٹرز بک میں 1971کے فوجی آپریشن میں ہونے والی خونریزی پر اظہار افسوس کرسکتا ہے تو ہم اپنے اپنے والد کو دیا جانے والا ایوارڈ کیوں وصول نہیں کرسکتے جنہوں نے 1971میں خبردار کیا تھا کہ ووٹ کے تقدس کو بندوق سے پامال کیا گیا تو پاکستان ٹوٹ سکتا ہے۔ہم پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لانے کی خواہش لے کر ڈھاکہ پہنچ گئے۔ وہاں ایوارڈز کی تقریب سے ایک رات قبل مجھے اور عاصمہ جہانگیر کو ایک ٹی وی پروگرام میں بلایا گیا اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے خلاف چلنے والے وار کرائمز ٹربیونل کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ عاصمہ نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ آپ لوگ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کررہے۔وار کرائمز کے الزامات سیاسی لوگوں پر نہیں فوجی افسران پر تھے ۔ ان فوجی افسران کو شیخ مجیب نے ایک سہ فریقی معاہدے کے تحت معاف کردیا تھا پھر آپ سیاسی لوگوں پر مقدمہ کیوں چلارہے ہیں؟ میں نے بھی یہی کہا کہ مقدمہ چلانا ہے تو ان لوگوں پر چلائو جن کی فہرست شیخ مجیب نے پاکستانی حکومت کو دی تھی۔ غلام اعظم جیسے 90سالہ بزرگ پر مقدمہ چلانا ناانصافی ہے۔ہماری گفتگو سے بنگلہ دیشی حکومت ناراض ہوگئی دوسری طرف پاکستان میں کچھ سازشی لوگوں نے اس ٹی وی

پروگرام کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا اور عاصمہ جہانگیر کو ایک دفعہ پھر غداری کے الزام سے نوازا۔ شاید یہی وہ بےبنیاد الزامات تھے جن کے خوف سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے عاصمہ جہانگیر کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کی جرأت نہ کی۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کا پچھلے ہفتے برین ہیمبرج کے باعث انتقال ہو گیا تھا ۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے ان کو سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…