منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان توڑنے کا منصوبہ عاصمہ جہانگیر کے والد کے گھر بنا،ملک غلام جیلانی نے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو خط لکھ کر پاکستان پر حملہ کا مطالبہ کیا، عاصمہ جہانگیر فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرتی رہیں، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان کو توڑنے کا اپنا مکروہ اور بھیانک ایجنڈا عاصمہ جہانگیر کے والد ملک غلام جیلانی کے گھر پر تیار کیا تھا۔ مکتی باہنی کے خلاف آپریشن کے فیصلے کی مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ مزاحمت غلام جیلانی نے کی۔ بغاوت قابو میں آنے پر عاصمہ کے والد غلام جیلانی نے

بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو خط لکھ کر مغربی پاکستان پر حملہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایکشن نہ لینے پر دوسرا خط لکھا اور تیسری بار اسے چوڑیاں بھیج دیں۔ ملک غلام جیلانی کے یہ خطوط ہفت روزہ زندگی میں شائع ہوئے۔ یحییٰ خان نے ان حرکتوںپر اسے گرفتار کیا تو عاصمہ جہانگیر نے باپ کو چھوڑنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی ۔ جہاں اس وقت کے فوج مخالف چیف جسٹس حمود الرحمن نے فوری طور پر غلام جیلانی کی رہائی کا حکم دیا۔ حمود الرحمن نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سےا پنی رپورٹ حمود الرحمن کمیشن میں سانحہ مشرقی پاکستان کا ملبہ پاک فوج پر ڈال دیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کے قانون کے خلاف رہیں، کئی لوگوں کا کیس انہوں نے مفت لڑا اور ان کو رہائی دلائی۔ ممبئی حملوں اور سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پر ملکی موقف کے برعکس بھارتی موقف کی تائید کی اور بغیر کسی ثبوت کے آئی ایس آئی کو ذمہ دار قرار دیا۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں حملوں کا ماسٹر مائنڈ انڈین انٹیلی جنس کے کرنل پروہت کے ملوث ہونے اور آر ایس ایس کے حملے میں شامل ہونے کے باوجود عاصمہ جہانگیر پاکستان کو ہی حملوں میں ملوث قرار دیتی رہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کبھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت فلسطین میں اسرائیل جبکہ شام و عراق میں امریکی مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…