منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ انتخابات کیلئے 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ،24کے منظور کر لیے گئے ،تحریک انصاف کو بڑی کامیابی مل گئی

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن پنجاب نے سینیٹ انتخابات کیلئے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر حافظ عبدالکریم سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے جبکہ جانچ پڑتال کے بعد 24 امیدواروں کے کاغذات منظور کرلئے گئے، کاغذات کی سکروٹنی کے عمل کے دوران اسحاق ڈار اور تحریک انصاف کے وکلاء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ اسحاق ڈار کے وکلاء نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں جنرل نشست اور ٹیکنو کریٹ کی نشست پر علیحدہ علیحدہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے تھے۔اسحاق ڈار نے نامزد نمائندے کے ذریعے کاغذات کی جانچ پڑتال کی استدعا کی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کرتے ہوئے ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل پیر کی دوپہر تک ملتوی کردیا تھا۔اسحاق ڈار کے وکیل نصیر بھٹہ ان کے نمائندے کے طور پر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تاہم صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسحاق ڈار کے تجویز اور تائید کنندہ کی موجودگی ضروری ہے۔الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کے تائید کنندہ غزالی سلیم بٹ اور تجویز کنندہ منشااللہ بٹ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی بھی ہدایت کی تھی۔پی ٹی آئی کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ اسحاق ڈار ملک سے باہر ہیں اور اپنے اقرار نامے پر خود دستخط نہیں کر سکتے جبکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت انہیں اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے لہٰذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔تاہم ریٹرنگ افسر نے اپنے فیصلے میں اشتہاری ہونے کو بنیاد نہیں بنایا صرف اقرار نامے کے معاملے پر اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ۔ سینیٹ انتخابات کی ضابطے کے مطابق امید وار کو ہر نشست کے لیے علیحدہ اکاؤنٹ کھلوانا لازمی ہے۔تاہم ریٹرنگ افسر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار نے صرف ایک نشست کے لیے بینک اکاؤنٹ کھلوایا جو سینیٹ انتخابات کے ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ کے وکلاء کی جانب سے جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں کہا گیا تھا کہ اسحاق ڈار نے ایک بینک اکاؤنٹ کھلوایا ہے جس سے وہ دونوں نشستوں پر انتخابی مہم کے حوالے سے اخراجات کریں گے۔ اسحاق ڈار کے وکلاء کی جانب سے بینک سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا تاہم ریٹرنگ افسر نے ان کے دلائل اور سرٹیفکیٹ کو مسترد کردیا اور پی ٹی آئی کے اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا۔سکروٹنی کے عمل کے دوران اسحاق ڈار اور تحریک انصاف کے وکلاء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ۔

جبکہ اسحاق ڈار کے وکیل نے میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریٹرنگ افسر کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما ووفاقی وزیر حافظ عبدالکریم ، آزاد امیدوار سرفراز قر یشی، بلال بٹ اور عثمان خان زئی کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ۔ جبکہ آصف کرمانی ، حنا ربانی کھر، ہارون اختر ،عندلیب عباس ،شہزاد خان ،چوہدری سرور ،کامل علی آغا،رانامحمود الحسن ، شیزا فاطمہ ، سمیع اللہ چودھری،مصدق ملک،شکیل اعوان ،ولیم مائیکل، نواز ش علی پیرزادہ، نصیربھٹہ ،رانا مقبول،زبیر گل، شاہین خالد بٹ،

کامران مائیکل، آصف جاوید، سعدیہ عباسی، نزہت صادق، وکٹر زاریا اور حامعراج کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں ۔اسحاق ڈار کے کاغذات مسترد ہو نے پر تحریک انصاف کے وکلاء کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا جبکہ اسحاق ڈار کے وکلاء اور حامیو ں کی جانب سے نعری بازی کی گئی ۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 15 فروری تک دائر کی جا سکیں گی۔ان اپیلوں پر فیصلہ 17فروری تک کیا جائے گا اور امیدواروں کی حتمی فہرست 18فروری کو شائع کی جائے گی جبکہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 19فروری مقرر کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…