منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

توبہ توبہ اتنا جھوٹ ۔۔۔ سرکاری وکیل نے ایسے ایسے الزامات عائد کردیئے کہ شیریں مزاری کے ہوش ہی اُڑ گئے ، شاہ محمودقریشی کا حیرت انگیز ردعمل

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی )اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سرکاری ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیس کی سماعت کے دور ان کمرہ عدالت مںی موجودتحریک انصاف کے رہنما شیریں مزاری کافی پریشان دکھائی دیں ٗسرکاری وکیل کے دلائل پر بار بار کھڑا ہونے پر شاہ محمود قریشی بیٹھنے کا اشارہ کرتے رہے ۔ جمعرات کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 2014 میں دھرنوں کے دوران ریاست کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملوں کے الزام میں

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری کو بے گناہ قرار دیا ہے جبکہ عدالت نے ان ہی مقدمات میں اسی جماعت کے چار ارکان اسمبلی کی عبوری ضمانت کی توثیق کر دی ہے۔ان ارکان پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، اسد عمر اور ڈاکٹر عارف علوی شامل ہیں۔بی بی سی کے مطابق انسداد دہشتگری عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ملزمان کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت کی تو اس مقدمے کے سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمان نے 2014 کے دھرنے کے دوران نہ صرف اسلحہ خریدا بلکہ اسے دھرنوں کے دوران استعمال بھی کیا۔اْنھوں نے کہا کہ ان دھرنوں کے دوران جو تین افراد جاں بحق ہوئے ان کے ذمہ دار بھی یہی لوگ ہیں۔سرکاری وکیل چوہدری شفقت نے عدالت کو بتایا کہ جب سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا گیا تو اس وقت ان ملزمان کے ہاتھوں میں آتشی اسلحے کے علاوہ کلہاڑیاں اور ڈنڈے بھی تھے۔اْنھوں نے کہا کہ ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو پر حملہ کرنے والوں میں ان ملزمان کے علاوہ ان کے دیگر ساتھی بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی کے رہنما پرسکون انداز میں بیٹھے رہے جبکہ شیریں مزاری خاصی پریشان دکھائی دیں۔سرکاری وکیل کے دلائل کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری بار بار اپنی نشست سے کھڑی ہو جاتیں تاہم پارٹی کے

وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی انھیں بارہا بیٹھنے کا اشارہ کرتے رہے اور اْنھوں نے یہ عمل کئی بار دھرایا۔سرکاری وکیل نے اپنے دلائل میں جب یہ کہا کہ ان مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں ملزمہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو بھی گرفتار کرنا ہے لہٰذا عدالت ان کی عبوری ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے اْنھیں گرفتار کرنے کا حکم دے۔اس پر ڈاکٹر شیریں مزاری ایک بار پھر اپنی نشست سے کھڑی ہو گئیں

اور کہا کہ خدا کا خوف کریں ٗہم لوگ پارلیمنٹرینز ہیں اور انھیں اس کا احساس ہونا چاہیے۔پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران شیریں مزاری مسلسل ’توبہ توبہ اتنا جھوٹ‘ کے فقرے اپنی زبان سے ادا کرتی رہیں۔عدالت نے سماعت کے دوران ان واقعات سے متعلق درج ہونے والے مقدمات کی نقول بھی طلب کیں جن میں ڈاکٹر شیریں مزاری کا نام نہیں تھا اس پر عدالت نے انھیں بے گناہ قرار دیا جبکہ دیگر چار ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…