منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سماجی رویوں کا شاخسانہ ،ڈیرہ غازی خان میں 2 شادی شدہ قبائلی خواتین کی خود کشی،تیسری کی جان بچ گئی

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

ڈیرہ غازی خان (اے این اینٌ ڈیرہ غازی خان میں 3 شادی شدہ خواتین نے مبینہ طور پر خود کشی کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں 2 خواتین ہلاک جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے جسے علاج کے لیے نشتر ہسپتال ملتان منتقل کردیا گیا۔اس حوالے سے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ تینوں قبائلی خواتین نے گندم کو کیڑے سے دور رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کی جبکہ خود کشی کی وجوہات کے حوالے سے اطلاعت ہیں کہ خواتین نے سماجی رویوں سے تنگ آکر یہ اقدام اٹھایا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شادی شدہ خواتین میں 17 سالہ زاہدہ گل فراز، 16 سالہ عزیزہ فضل دین اور 21 سالہ تارو شامل ہیں جو قبائلی علاقے طمام قیصرانی میں شامتلہ کی رہائشی ہیں اور ان تینوں خواتین نے اس وقت زہریلی گولیاں کھائیں جب وہ ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گاؤں میں گئی تھیں۔خودکشی کرنے والی ایک خاتون تارو کا 6 ماہ کا بیٹا بھی ہے جبکہ ان تینوں خواتین کے شوہر قبائلی علاقوں سے باہر سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے گاں سے تین کلو میٹر دور جنگل میں تارو اور زاہدہ کی لاش ملی جبکہ عزیزہ کو انتہائی نازک حالت میں پہلے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ منتقل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انہیں مزید طبی علاج کے لیے ملتان منتقل کردیا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بارڈر ملٹری پولیس کی جانب سے جنگل سے ملنے والی خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے کہا تھا لیکن خواتین کے اہل خانہ نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے انہیں دفنا دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے جب قبائلی علاقے کے پولیٹیکل اسسٹنٹ جمیل احمد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کرلی گئی ہے لیکن ایف آئی آر ابھی درج نہیں کی گئی۔اس واقعے سے متعلق بارڈر ملٹری اہلکار نجیب نے دعوی کیا کہ زندہ بچ جانے والی خاتون عزیزہ نے اپنے رشتے داروں کو بتایا کہ اس نے خود زہریلی گولیاں کھائی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…