منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سیاسی پوائنٹ سکورنگ ا ور واقعہ کو شرمناک رنگ دینے کی سازش، مقتولہ عاصمہ کے والد اور چچا نے اہم سیاسی جماعت پر سنگین الزامات عائد کردیئے،اور صوبائی حکومت اور کے پی پولیس کی تعریف

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

مردان (آئی این پی ) چئیرمین ڈیڈک مردان و رُکن صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی کی قیادت میں موضع گوجر گڑھی مردان کے عوام اور مقتولہ عاصمہ کے لواحقین نے عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے مردان کے ضلع ناظم حمایت مایار کے خلاف اور صوبائی حکومت اور کے پی پولیس کے حق میں مظاہرہ کیا۔ جس سے مقامی ایم پی اے و رہنماء تحریک انصاف افتخار علی مشوانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے تحصیل کونسلر حاجی اورنگزیب، عوامی نیشنل پارٹی کے ناظم ویلج کونسل ملک امیر زیب خان ،

جماعت اسلامی کے مقامی رہنماء مختیار خان ، مقتولہ عاصمہ کے والد بہرام ، چچا سیف اللہ، مقامی پیش امام مولانا شمشاد اور گوجر گڑھی کے مشران نے بھی خطاب کیا۔ امن ریلی کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے افتخار علی مشوانی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ اور فرانزک رپورٹ کے حوالے سے غلط بیانی کررہی ہے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کا بنیادی مقصد صوبے میں بدامنی پھیلانا اور سستی شہرت کا حصول ہے۔ جس کیلئے وہ اخلاقیات سے گری ہوئی حرکات کررہے ہیں جس سے نہ صرف علاقہ بدنام ہورہا ہے بلکہ مقتولہ کے خاندان کو بھی ان کے رویئے سے شدیدرنج و دکھ ہوا ۔ افتخار علی مشوانی نے کہا کہ مقتولہ عاصمہ کے خاندان نے صوبائی حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر اطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا۔ اور اُن کا موقف تھا کہ اگر ضلعی ناظم حقیقت میں عوام کا غم خوار ہے تو یہاں اور بھی بنیادی مسائل ہے جن کو حل کرنا بطور ضلعی ناظم ان کی ڈیوٹی ہے ۔اے این پی کے رہنماوں نے جس طرح مقتولہ کے خاندان اور اہل علاقہ کی توہین کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ چئیرمین ڈیڈک افتخار علی مشوانی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ضلعی ناظم حمایت مایار کیخلاف سوموٹو ایکشن لے کر ان سے مقتولا کے لواحقین کی دل آزاری اور بدنامی کے حوالے سے پوچھ کچھ کریں تاکہ آئندہ وہ کسی کی عزت کیساتھ اس کھیلنے کی جراء ت نہ کرسکے جبکہ مقتولہ کی دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے اور اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل عمل میں لائے اور وقوعہ کے دن پوسٹ مارٹم کرنے والے داکٹر کیخلاف بھی انکوائری کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…