منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک کے منصوبوں کے لئے کام کرنیوالے افراد میں چینی باشندوں اور پاکستانیوں کی تعداد کتنی ہے؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ ژینگ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں متحرک بلوچ مزاحمتی تحریک اب نہ ہی پاکستان نہ چین اور نہ ہی سی پیک کیلئے کوئی خطرہ ہے اور پاکستان میں پہلے کی نسبت امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویوم یں انہوں نے کہاکہ وہ سو فیصد پر اْمید ہیں کہ گوادر بندرگاہ ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز بننے کے قریب ہے۔بلوچ مزاحمت کاروں کے بارے میں انہوں نے کہاکہ وہ حقیقی پاکستانی نہیں ہیں ٗاگر

وہ حقیقی پاکستانی ہوتے تو وہ پاکستان کے قومی مفاد میں سوچتے۔چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے لیے پاکستان میں لگ بھگ 10 ہزار چینی باشندے کام کر رہے ہیں اور اْن کے تحفظ کیلئے وہ پاکستان کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔ ان کے مطابق سی پیک منصوبے میں 60 ہزار کے قریب پاکستانی بھی کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں چینی سفیر کے مطابق سی پیک اب پہلے مرحلے میں ہے جس میں اب تک 21 منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ لگ بھگ 20 مزید منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک ہمسایہ ملک افغانستان سمیت خطے کے دوسرے ممالک تک پھیلایا جائے گا۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے چینی سفیر نے کہا کہ اْن کا ملک دونوں ہمسایہ ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور افغانستان میں مفاہمتی عمل کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں چینی سفیر نے کہا کہ اْن کے ملک کا افغان طالبان پر اثر و رسوخ نہیں، تاہم اْن کے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ساتھ رابطے ہیں۔ یاؤژینگ کے مطابق اْن کے ملک نے افغان طالبان سے بار بار مذاکرات میں حصہ لینے کی درخواست کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…