پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

افغانستان میں دہشتگردی، تعلقات خراب کرنے کیلئے کون سرگرم عمل ہے، افغان سفیر بھی پاکستانی موقف کے حامی نکلے آئی ایس آئی چیف کو کہاں آنے کی دعوت دے دی؟

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان کا ضامن ہے، افغانستان میں امن نہیں ہوگا توپاکستان اوروسط ایشیا کےمابین راہداری نہیں ہوسکتی ،پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زخیل وال نے بھی پاک افغان تعلقات میں خرابی کی وجہ سے تیسری قوت کو قرار دیدیا، آئی ایس آئی چیف کو دورہ کابل کی دعوت۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زخیل وال

نے پاکستانی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان تعلقات میں خرابی کا ذمہ دار تیسری قوت ہے۔پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان کا ضامن ہے،کئی مہینوں کی محنت کےبعدتعلقات پھرصفرپرآجاتےہیں۔ پاکستان اورافغانستان کےمابین جلد تعلقات بہتر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تیسری قوتیں دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب کرنے کا موجب ہیں۔ جب بھی کوئی مثبت قدم اٹھایا جاتا ہے تو کچھ غلط ہوجاتا ہے۔ کئی مہینوں کی محنت کےبعد تعلقات پھرصفرپرچلے جاتے ہیں۔ پاک افغان تعلقات کی بہتری جلد ہونی چاہیے اس میں دیرنہیں ہونی چاہیے۔ پاک افغان تعلقات کی خرابی سےسب کو نقصان ہورہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے آج افغان سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان سفیر عمر زاخیل وال سے ملاقات بھی کی جبکہ سفارتخانے میں افغانستان میں ہونیوالے حالیہ دہشتگردی واقعات میں جانی و مالی نقصان پر اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔ افغان سفیر نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورہ کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کیلئے نیک شگون قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کو قریبی دوست دیکھنے کے خواہاں ہیں اور اس حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں۔ عمر زاخیل وال کا کہنا تھا کہ فغانستان کے2سینئر وزراء کو پاکستان لانےمیں کامیاب ہوگیا ہوں۔ انہوں نے اس موقع پر آئی ایس آئی چیف کو دورہ کابل کی دعوت بھی دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…