منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

میر ہزار خان بجارانی اہلیہ سمیت قتل ہوئے یا خود کشی کی،ابتدائی رپورٹ جاری

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں گھر سے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ فریحہ رزاق کی لاشیں ملی ہیں۔تفصیلات کے مطابق کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک گھر سے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ملی ہیں۔ صوبائی وزیر کے پرائیوٹ سیکریٹری اللہ ورایو نے تصدیق کی ہے کہ میر ہزار خان بجارانی مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق میر ہزار خان بجارانی اور

ان کی اہلیہ فریحہ رزاق کو گولیاں لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق اہل خانہ کا بتانا ہے کہ کمرے کا دروازہ توڑ کر دونوںکی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ون فائیو پر اطلا ع ملی تھی کہ ایک گھر سے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ خود کشی کا ہو سکتا ہے ،پوسٹمارٹم ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی ۔واضح رہے کہ میر ہزار خان بجارانی1974 اور 1977میں سندھ کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ 1988 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔وہ مسلسل چار انتخابات سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ان کے صاحبزادے بھی رکن اسمبلی تھے۔سن2013 کے عام انتخابات میں میر ہزار خان بجارانی سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 16 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، ان کے پاس پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت کا قلمدان تھا۔میرہزار خان بجارانی جیکب آباد سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔مرحوم پی ایس 16 جیکب آباد سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور سندھ کے وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ تھے۔میر ہزار خان بجارانی کا تعلق کرم پور تعلقہ تنگوانی ضلع کشمور کندھ کوٹ سے تھا۔ وہ وزیر تعلیم اور وزیر صنعت و پیداوار بھی رہ چکے ہیں۔مرحوم نے 1966 میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، افسوسناک اطلاع کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماان کے گھر پہنچ گئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…