منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

قصور کی کمسن بچیوں کا سیریل کلر عمران کیا بچ کر نکل جائے گا ملزم کی ایسی چالاکی کہ پولیس سر پکڑ کر بیٹھ گئی،ماں نے گرفتاری میں مدد انسانی ہمدردی کیلئے نہیں بلکہ کیوں کی؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قصور کی زینب اور دیگر بچیوں کے قاتل عمران نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان دینے سے انکار کر دیا ہے اور پولیس کے پاس سوائے ڈی این اے کے علاوہ کوئی شہادت موجود نہیں جس کی وجہ پولیس کے افسران تذبذب کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زینب قتل کیس

کے ملزم عمران علی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اقبال بیان دینے سے مبینہ طور پر انکار پر تفتیشی ٹیم تذبذب کا شکار ہے کیونکہ پولیس کے پاس ڈی این اے کے سوا اس کیس میں کوئی تائیدی شہادت موجود نہیں۔ ملزم نے دوران تفتیش اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات کو جرم کی بنیادی وجہ بتایا ہے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ قتل و ریپ ملزم کا انفرادی فعل تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش مبینہ انکشاف کیا کہ وہ خاندانی افراد کے ہاتھوں بھی زیادتی کا شکار ہوتا رہا۔ ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ اس کے خواتین کے ساتھ بھی تعلقات تھے۔ سینئر افسر نے مزید بتایا کہ اس کو پولیس نے دو دفعہ تفتیش کیلئے حوالات میں بند کیا لیکن بیماری کا بہانہ بنانے پر پولیس نے اس کے مرجانے کا خدشہ ہونے پر اس کو چھوڑ دیا تھا۔ گرفتاری کے بارے میں سینئر افسر نے بتایا کہ زینب کی نعش کی برآمدگی کے بعد جب پنجاب حکومت نے ملزم کی گرفتاری کیلئے ایک کروڑ انعام کا اشتہار دیا تو ملزم کے حقیقی چچا نے شک اور ملزم کا ماضی دیکھتے ہوئے اس کی والدہ سے بات کی کہ انعام کی خاطر اس کو گرفتار کروا دیتے ہیں پہلے تو ماں مان گئی لیکن بعد میں اس نے انکار کردیا جس کا ملزم کو پتہ چلا تو گرفتاری سے بچنے کیلئے وہ پاک پتن چلا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زینب کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملزم کو گرفتار کرایا جس

میں صداقت نہیں۔ ملزم کو ڈی این اے مثبت آنے پر پکڑا گیا، انعام کی رقم لینے کیلئے تمام لوگ اپنےاپنے دعوے کر رہے ہیں، ملزم کریمنل ذہن کا مالک ہے، یہ درندہ اپنی ہوس کیلئے چھوٹی بچیوں کا انتخاب کرتا تھا۔ ملزم کا کسی مافیا یا گینگ سے ابھی تک کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ ماہر قانون دان صفدر شاہین پیرزادہ نے بتایا کہ پولیس کو دوران ریمانڈ ملزم کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے

اقبالی بیان زیر دفعہ 164ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کرانا ہوتا ہے جس کی کیس میں سزا دینے کیلئے قانونی حیثیت ہوتی ہے ۔ آٹھ دن گزرنے کے بعد اگر پولیس تفتیش کے دوران ملزم کااعترافی بیان ریکارڈ نہیں کرا سکی تو اس کا مطلب ہے کہ ملزم چالاک اور تفتیشی ٹیم کو چکر دیتا ہے، پولیس کے سامنے دئیے اقبالی بیان کو عدالت میں بطور شہادت استعمال نہیں کیا جا سکتا جس پر سزا یا جزا دی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…