ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

قصور کی کمسن بچیوں کا سیریل کلر عمران کیا بچ کر نکل جائے گا ملزم کی ایسی چالاکی کہ پولیس سر پکڑ کر بیٹھ گئی،ماں نے گرفتاری میں مدد انسانی ہمدردی کیلئے نہیں بلکہ کیوں کی؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قصور کی زینب اور دیگر بچیوں کے قاتل عمران نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان دینے سے انکار کر دیا ہے اور پولیس کے پاس سوائے ڈی این اے کے علاوہ کوئی شہادت موجود نہیں جس کی وجہ پولیس کے افسران تذبذب کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زینب قتل کیس

کے ملزم عمران علی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اقبال بیان دینے سے مبینہ طور پر انکار پر تفتیشی ٹیم تذبذب کا شکار ہے کیونکہ پولیس کے پاس ڈی این اے کے سوا اس کیس میں کوئی تائیدی شہادت موجود نہیں۔ ملزم نے دوران تفتیش اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات کو جرم کی بنیادی وجہ بتایا ہے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ قتل و ریپ ملزم کا انفرادی فعل تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش مبینہ انکشاف کیا کہ وہ خاندانی افراد کے ہاتھوں بھی زیادتی کا شکار ہوتا رہا۔ ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ اس کے خواتین کے ساتھ بھی تعلقات تھے۔ سینئر افسر نے مزید بتایا کہ اس کو پولیس نے دو دفعہ تفتیش کیلئے حوالات میں بند کیا لیکن بیماری کا بہانہ بنانے پر پولیس نے اس کے مرجانے کا خدشہ ہونے پر اس کو چھوڑ دیا تھا۔ گرفتاری کے بارے میں سینئر افسر نے بتایا کہ زینب کی نعش کی برآمدگی کے بعد جب پنجاب حکومت نے ملزم کی گرفتاری کیلئے ایک کروڑ انعام کا اشتہار دیا تو ملزم کے حقیقی چچا نے شک اور ملزم کا ماضی دیکھتے ہوئے اس کی والدہ سے بات کی کہ انعام کی خاطر اس کو گرفتار کروا دیتے ہیں پہلے تو ماں مان گئی لیکن بعد میں اس نے انکار کردیا جس کا ملزم کو پتہ چلا تو گرفتاری سے بچنے کیلئے وہ پاک پتن چلا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زینب کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملزم کو گرفتار کرایا جس

میں صداقت نہیں۔ ملزم کو ڈی این اے مثبت آنے پر پکڑا گیا، انعام کی رقم لینے کیلئے تمام لوگ اپنےاپنے دعوے کر رہے ہیں، ملزم کریمنل ذہن کا مالک ہے، یہ درندہ اپنی ہوس کیلئے چھوٹی بچیوں کا انتخاب کرتا تھا۔ ملزم کا کسی مافیا یا گینگ سے ابھی تک کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ ماہر قانون دان صفدر شاہین پیرزادہ نے بتایا کہ پولیس کو دوران ریمانڈ ملزم کا جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے

اقبالی بیان زیر دفعہ 164ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کرانا ہوتا ہے جس کی کیس میں سزا دینے کیلئے قانونی حیثیت ہوتی ہے ۔ آٹھ دن گزرنے کے بعد اگر پولیس تفتیش کے دوران ملزم کااعترافی بیان ریکارڈ نہیں کرا سکی تو اس کا مطلب ہے کہ ملزم چالاک اور تفتیشی ٹیم کو چکر دیتا ہے، پولیس کے سامنے دئیے اقبالی بیان کو عدالت میں بطور شہادت استعمال نہیں کیا جا سکتا جس پر سزا یا جزا دی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…