منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید زلزلے آنے کی پیشن گوئی کردی،کیا کچھ ہوسکتاہے؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید زلزلے آنے کی پیشن گوئی کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز زلزلے کے شدید جھٹکوں نے ملک کے بیشتر علاقوں کو لرزا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگوں کو اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکلنا پڑا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ جبکہ اب محکمہ موسمیات نے اس حوالے تشویش ناک پیشن گوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید زلزلے آنے کی پیشن گوئی کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہلکی اور درمیانی شدت کے زلزلے پاکستان کے کئی علاقوں میں آئندہ چند روز میں آ سکتے ہیں۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائن پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان “انڈین پلیٹ” کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ”سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کا دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانی درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی ا?خری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے فالٹ لائنز کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…