منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں پولیس کامعطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے گھرپرچھاپہ،کراچی کی پولیس بھی پہنچ گئی‎

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد میں پولیس نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا ہے ٗگرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے اسلام آباد میں موجود کراچی پولیس کے اہلکاروں نے معطل ایس ایس پی ملیر کو حراست میں لینے کیلئے چھاپہ مارا۔پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے چھاپہ مارنے میں کراچی پولیس کی معاونت کی تاہم جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ راؤ انوار کی ملکیت نہیں تھا اور نہ ہی اس گھر سے

کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔اسلام آباد میں پولیس نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا ہے۔ راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے اسلام آباد میں موجود کراچی پولیس کے اہلکاروں نے معطل ایس ایس پی ملیر کو حراست میں لینے کیلئے چھاپہ مارا۔پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے چھاپہ مارنے میں کراچی پولیس کی معاونت کی تاہم جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ راؤ انوار کی ملکیت نہیں تھا اور نہ ہی اس گھر سے کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔خیال رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے آئی جی سندھ کو 3 روز کی ڈیڈ لائن دی تھی جو آج ختم ہو چکی ہے۔راؤ انوار نے 13 جنوری کو کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود نامی نوجوان کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا الزام ہے اور اس حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی نے بھی راؤ انوار کے مقابلے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔سابق ایس ایس پی نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بھی نقیب اللہ قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے راؤ انوار کو پیش ہونے کا حکم دیا تاہم وہ پیش نہ ہوئے۔راؤ انوار کہنا تھا

کہ جب انہوں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو پھر کیوں اپنی گرفتاری پیش کروں۔بعد ازاں راؤ انوار نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش بھی کی جسے ایف آئی اے کے اہلکار نے ناکام بنا دیا تاہم راؤ انوار کی گرفتاری کا نوٹس نہ ہونے کی وجہ سے انہیں حراست میں نہیں لیا گیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…