پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

شہباز شریف کا نیب کو تگڑا جواب ،حضور ذرا نظر کرم اس جانب بھی قومی خزانے کو اربوں کا چونا لگانے والے آزاد کیوں گھوم رہے ہیں؟ پنجاب حکومت بڑے بڑے نام اور منصوبے سامنے لے آئی

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت پنجاب وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے ویژن کے مطابق عوام کی ترقی وخوشحالی کیلئے بے مثال پروگرام اور فلاحی منصوبوں کیلئے تمام تروسائل بروئے کار لانے کیلئے عملی اقدامات میں کوشاں ہے اور کرپشن فری معاشرہ کے فروغ اور منصوبہ جات میں ہر ممکنہ بچت کیلئے موجودہ حکومت پنجاب نے ایک تاریخ رقم کی ہے، جیسا کہ وزیراعلیٰ پنجاب

کئی بار جلسوں پر اپنے اظہار خیال میں اِ س بات کو پُرزور کہ چکے ہیں کہ ایک ڈھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو اُنہیں لٹکا دیا جائے علاوہ ازیں دوسری طرف حکومت پنجاب مختلف منصوبوں میں 220ارب روپے کی شاندار بچت کر کے نئی روایت کو بھی قائم کیا ہے ۔یہی وجہ کہ آشیانہ اسکیم میں ڈیڑھ ارب کی بچت کی مثال کے چرچے آجکل میڈیا میں خوب سنائی دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کی نیت صاف حوصلے بلند اور رب کریم پر قوی ایمان ہی ہے کہ اُنہیں سیاسی مخالفین کی جانب سے لگائے گئے کسی خود ساختہ الزامات کی پروا نہیں اور وہ اِن کاسامنا کرنے کو تیار ہیں او رعملی طور پر اداروں سے مکمل تعاون بھی کر رہے ہیں تا کہ اپنے دامن کو صاف اور خود کو سچا ثابت کر سکیں۔مگر یہاں تو گنگا ہی اُلٹی بہہ نکلی ہے ، جس شخص کا دامن صاف ہے ۔اُس کے خلاف من گھڑت الزامات کی بنیاد پر فی الفور ریفرنسز تیار کر لئے جاتے ہیں ، پیشی کیلئے حکم نامہ بھی جاری کر دیا جاتا ہے اور تحقیقات میں برق رفتاری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔۔مگرجہاں تھوڑی نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے وہاں نیب چُپ سادھ کر بیٹھ گئی ،بارہا رجوع کرنے پر بھی وہ سرعت انگیزیاں نظر نہیں آ رہی جیسے شہبازشریف اور اِ نکی حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات پر نیب کو متحرک دیکھا گیا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اگر ایسا ہی رویہ روا رکھاگیا تو عوام پر ادارے آزاد

اور غیر جانبدار ہونے کا تاثر کیسے قائم ہوگا ؟ اب 2007میں صوبائی حکومت کا اربوں روپے مالیت کا معدنیاتی خزانہ کا ٹھیکہ ایک جعل ساز کمپنی کے حوالے کرنے کے معاملے کو ہی دیکھ لیا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق 2008میں وزیر اعلیٰ شہباز شرف نے منصب سنبھالتے ہی قومی خزانوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا اور عدالت سے رجوع کیا۔ گواہوں،ثبوتوں اور بیانات

کی بنیاد پر 2010میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس منصور علی شاہ نے اپنی عدالتی فیصلے میں اس بات کا اعتراف کیا کہ گذشتہ صوبائی حکومت نے جس کمپنی سے معاہدہ کیا ہے وہ ایک جعل ساز کمپنی ہے، جسے عوامی مفا د اور قومی خزانے کے تحفظ کے خلاف بھی قرار دیا جبکہ نیب کو معاملے کی چھان بین کرنے اور ذمہ داروں کو کیف کردار تک پہنچانے کی ہدایات بھی جاری کی۔

مگر افسوس صد افسوس10 سال تک نیب اس کیس کو ٹالتی رہی۔ یہاں تک نیب نے اس کیس کے خلاف کوئی بھی کاروائی کیے بنا ہی کیس ختم کر دیا۔مگرپنجاب حکومت کی انتھک کوششوں اور نیب پر دباؤ کے بعد اس کیس کو پھر سے کھولا دیاگیا ہے،اُمید ہے کہ نیب بڑی سنجیدگی سے غیرجانبداری کا مظاہر کرتے ہوئے قومی خزانے میں ہونے والی جعل سازی اور دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے گی۔

مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس جعل ساز کمپنی کو بے نقاب کرنے میں پنجاب حکومت کی مسلسل تگ و دو شامل ہے اور ذرائع کے مطابق آخر کار دس سال بعد نیب نے اِس کیس پر قانونی کاروائی کرنے کی ٹھان لی ہے مگر ناجانے اور کتنے کیسز ہونگے جو بغیر کاروائی کے الماریوں کی زینت بن چُکے ہوں گے۔۔اُن کا کیا؟؟‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…