منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس سکولوں ،ہسپتالوں کے دورے پر نکل پڑے فوری انصاف پر توجہ دیں،فوج اچھی تو لگتی ہے مگر ۔۔سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے کیا مطالبہ کر دیا

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فوج اسلام آباد میں نہیں راولپنڈی میں اچھی لگتی ہے، چیف جسٹس ہسپتالوں اور سکولوں کے دورے تو کریں مگر فوری انصاف کی جو ذمہ داری آئین نے انہیں دی ہے اسے پورا کرنے پر بھی توجہ دیں، پیپلزپارٹی کی رہنما اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام محاذ میں اینکر وجاہت حسین کو دئیے گئے انٹرویو میں اظہار خیال۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام محاذ میں اینکر وجاہت حسین کو دئیے گئے انٹرویو میں مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی رہنما اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ فوج اسلام آباد میں نہیں راولپنڈی میں اچھی لگتی ہے، افواج پاکستان نہ صرف ملک بلکہ ساری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہے ، قیام امن کیلئے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی افواج پاکستان کا اہم کردار ہے ، فوج کا کام سیاست نہیں اور سیاستدانوں کے پیدا کردہ خلا کو عوام نے پر کرنا ہوتا نہ کہ فوج نے۔ فوج ملک کی سلامتی اور اس کے دفاع میں ایک اہم فریق ہے جس کو تسلیم کرتے ہیں ۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ہسپتالوں اور سکولوں کے دورے تو کر رہے ہیں اور جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کی اجازت انہیں پاکستان کا آئین دیتا ہے تو آئین پاکستان انہیں فوری طور پر انصاف کی فراہمی کیلئے بھی ذمہ دار بناتا ہے اور انہیں اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ٹیسٹ کیس میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب تک ہر ادارہ اپنا کام بخوبی سر انجام نہیں دے گا اور اپنے کام کی ہی طرف توجہ نہیں دے گا تب تک پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔اس لئے ہر ادارہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…