منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

زینب کے قاتل عمران سے بڑے درندے تو قصور پولیس والے نکلے بچیوں کےاصل قاتل پکڑنے کے بجائے بیگناہ لوگوں کو پولیس مقابلوں میں مارتے رہے، نوجوان مدثرکوبھی ان کائونٹرمیں قتل کیا،معاملہ اوپن ہو گیا

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی نور فاطمہ قتل کیس دوبارہ اوپن کرنے کا فیصلہ، نور فاطمہ کا قاتل قرار دیکر پولیس مقابلے میں مارے جانے والے مدثر سے متعلق بھی تحقیقات شروع، پولیس مقابلے میں مدثر کو مارنے والے 6اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق

قصور کی ننھی نور فاطمہ قتل کیس دوبارہ اوپن کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور مدثر کو نور فاطمہ سے زیادتی کے بعد اسے قتل کرنے والا قرار دیکر پولیس مقابلے میں مارے جانے کا بھی معاملہ اوپن کرلیا گیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی نے بے گناہ مدثر کو پولیس مقابلے میں قتل کرنے والے 6پولیس اہلکاروں کو طلب کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ قصور کی ننھی نور فاطمہ کو بھی زینب کی طرح اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جس کی تفتیش کے دوران پولیس نے مدثر کو اس کا قاتل قرار دیا تھا۔ مدثر کو فروری2017میں پولیس نے ایک مقابلے میں مارنے کی تصدیق کی تھی جبکہ اب زینب کے قاتل عمران کی گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ عمران زینب سمیت دیگر 8بچیوں کا بھی قاتل ہے جن کو اس نے زیادتی کے بعد قتل کیا ۔ان بچیوں میں نور فاطمہ بھی شامل ہے۔ خبر میڈیا پر آنے کے بعد یہ انکشاف بھی سامنے آیا تھا کہ قصور پولیس نے بچیوں کے اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعات پر عوامی ردعمل سے بچنے کیلئے 5بے گناہ افراد کو قاتل قرار دیکر انہیں جعلی پولیس مقابلوں میں مار دیا ہے جبکہ ان بچیوں کے جسموں سے ملنے والا قاتل کا ڈی این اے عمران کے ساتھ میچ ہو ا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…