منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’مجھے چیف جسٹس نے یہ حکم لکھ کر دیا ہے کہ ۔۔‘‘ شاہد مسعود جے آئی ٹی میں کیوں پیش نہیں ہوئے خاتون صحافی کو ایسی بات کہہ دی کہ پنجاب حکومت بھی حیران رہ گئی

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )زینب قتل کیس میں گرفتار عمران کے بینک اکائونٹس اور غیر ملکی گروہ سے تعلق کی غلط خبر دینے کا معاملہ، خاتون صحافی کے رابطہ کرنے اور جے آئی ٹی میں پیش نہ ہونے کی وجہ دریافت کرنے پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایسی بات کہہ دی کہ سب دنگ رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابقزینب قتل کیس میں گرفتار عمران کے بینک اکائونٹس اور غیر ملکی گروہ

سے تعلق کی غلط خبر دینے کا معاملہ دن بدن ڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کو چیف جسٹس نے ان کی خبر کے بعد عدالت میں طلب کیا تھا جہاں انہوں نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک چٹ پر چیف جسٹس کو وفاقی وزیر کا نام لکھ کر دیا تھا۔ جب اس معاملے پر نجی ٹی وی آج نیوز کی خاتون اینکر غریدہ فاروقی نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ جے آئی ٹی کے سامنے کیوں پیش نہیں ہوئے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ انہیں چیف جسٹس نے ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ غریدہ فاروقی نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے ہونیوالی بات چیت سے متعلق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ جب میں نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے چیف جسٹس کے حکم کی بابت دریافت کیا کہ وہ حکم زبانی تھا یا تحریری تو شاہد مسعود کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ نے تحریری حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ زینب اور قصور کی دیگر بچیوں کا قاتل انٹرنیشنل پیڈو فیلیا مافیا کا پاکستان میں کارندہ ہے اور اس کے پاکستان کے بینکوں میں 40اکائونٹس موجود ہیں جن میں 16لاکھ یورو کی ٹرانزکشن ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات کے بعد پنجاب حکومت نے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو طلب کر رکھا تھا جہاں وہ پیش نہیں ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…