جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ممبئی کی رادھا اور قصور کی زینب کے قتل میں حیرت انگیز مماثلت، سرگودھا میں 600بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بناکر ڈارک ویب پر بیچنےوالا منٹو پکڑا گیا، کیا واقعی کوئی انٹرنیشنل مافیا پاکستان میں سرگرم ہے، دھماکہ خیز انکشاف

datetime 27  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ممبئی کی رادھا اور قصور کی زینب کے قتل میں حیرت انگیز مماثلت سینئر صحافی و چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے اہم سوالات اٹھا دئیے۔ تفصیلات کے مطابق 2009 میں بھارئی شہر ممبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں رادھا نامی چھ سال بچی کی تشدد زدہ لاش ملی تھی جسے جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بعد ازاں ہاتھ اور کلائیاں کاٹی گئی تھیں۔اسکی زبان نوچی گئی تھی

اور اعضائے مخصوصہ پر چھریوں کے وار کئے گئے تھے اس واردات کے دو سال بعد ایک ہیکر نے جب ایک ڈارک ویب کی کچھ ویب سائٹس کو ہیک کیا تو وہاں سے رادھا کی ویڈیو ملی تھی جس پر دو سال قبل لائیو کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔ یعنی رادھا کو جب جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اسکی ویڈیو کو ڈارک ویب کمیونٹی کے لیے براہ راست نشر کیا گیا۔ دوسری جانب قصور کی ننھی زینب کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ پوسٹمارٹم رپورٹ نے زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق تو کی ہی مگر اس پر تشدد اور اس کے ہاتھوں کی نسیں کاٹے جانے کی بھی تصدیق ہوئی۔ نجی ٹی وی ’’چینل ۵‘‘کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد کا کہنا تھا کہ ان دو واقعات میں حیرت انگیز مماثلت بین الاقوامی گروہ کی پاکستان میں موجودگی اور ڈارک ویب پر ویڈیوز کے شکوک کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ ضیا شاہد نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی ایک واقعہ رپورٹ ہوا ہے جو چونیاں کا ہے جہاں ایک شخص کو کسی نے بتایا کہ اس کے بیٹے کی فحش ویڈیو یو ٹیوب پر چل رہی ہے جس پر اس نے ویڈیو دیکھنے کے بعد بیٹے کو مارا پیٹا جس پر بیٹے نے انکشاف کیا کہ ڈیڑھ سال سے مجرم اسے زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی زیادتی کے دوران کی ویڈیوز بناتے رہے ، اس نے جب اس بار ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا تو انہوں نے میری فحش ویڈیو یو ٹیوب پر چلا دی ہے۔

ضیا شاہد نے سرگودھا کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرگودھا میں بھی ایک شخص پکڑا گیا ہے جو اس وقت ایف آئی اے کی تحویل میں ہے ۔اس شخص کا نام منٹو ہے جو ایک کیبل آپریٹر تھا۔ کمپیوٹر کا ماہر تھا اور سافٹ ویئر کا بھی ماہر تھا۔ ائیر فورسز کے کمپیوٹر بھی درست کرتا رہا۔ اس نے دوران تفتیش قبول کیا ہے کہ اس نے 600بچوں کی زیادتی کی ویڈیو فلمیں بنائیں جو

اس کے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر موجود پائی گئیں۔ اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ناروے کی ایک ڈارک ویب سائٹ کیلئے کام کرتا ہے ۔ اس نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ اسے 300یورو ایک مووی کے ملتے ہیں۔ اس نے 600ویڈیوز بنا کر ڈھائی کروڑ روپے کمائے ۔ اس طرح کے واقعات پر پنجاب حکومت انکوائری کروائے اور ان ڈارک ویب سائٹ کے خلاف لائحہ عمل ترتیب دے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…