منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

’’آج کی سب سے بڑی خبر‘‘ رائو انوار کو بذریعہ جہاز ملک سے فرار کروا دیا گیا، جہاز سندھ کی کس اہم سیاسی شخصیت کا تھا،لیگی رہنما محسن رانجھا نے لائیو شو میں بریکنگ نیوز دیدی

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رائو انوارکو جہاز پر بٹھا کر بھگا دیا گیا ہے، جہاز کس کا تھا، زرداری صاحب سے پوچھ لیں، ن لیگ کے رہنما بیرسٹر محسن رانجھا کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف، رائو انوار کو سندھ حکومت نے کسی کو اڑانے کا ٹاسک نہیں دیا، جنہوں نے ٹاسک دیا ان سے پوچھا جائے، نبیل گبول نے الزامات مسترد کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام کے

دوران رائو انوار کے بیان سے متعلق جب اینکر کامران شاہد نے پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول سے سوال کیا کہ رائو انوار کہتے ہیں کہ انہیں آئی جی سندھ نے ٹاسک دیا تھا کہ دہشتگرد جہاں ملے اڑا دو جس پر جواب دیتے ہوئے نبیل گبول کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے رائو انوار کو کسی قسم کا ٹاسک نہیں دیا تھا جن لوگوں نے ایسا ٹاسک دیا تھا ان سے جا کر پوچھا جائے۔ اینکر کامران شاہد نے نبیل گبول سے جب دوسرا سوال کیا کہ رائو انوار کا زرداری صاحب سے کیا تعلق ہے ؟جس پر نبیل گبول نے انتہائی مضحکہ خیز جواب دیتے ہوئے کہا کہ رائو انوار اور زرداری صاحب کا آپس میں کوئی تعلق نہیں زرداری صاحب زرداری قوم کے سردار ہیں جب کہ رائو انوار کا تعلق رائو برادری سے ہے۔ نبیل گبول کی اس بات پر پروگرام میں شریک ن لیگ کے رہنما بیرسٹر محسن رانجھا ہنسنے لگ گئے اور کہا کہ واہ! نبیل گبول صاحب آپ نے تعلق کی کیا خوب تشریح کی ہے۔ بیرسٹر محسن رانجھا نے اس موقع پر نبیل گبول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نبیل گبول صاحب تعلق صرف قوم یا برادری کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ تعلقات جب تصاویر بولتی ہیں تب سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ رائو انوار کو جہاز پر بٹھا کر فرار کروا دیا گیا ہے انہوں نے جہاز کی ملکیت سے متعلق اپنی گفتگو میں عندیہ دیا کہ وہ جہازآصف زرداری یا سندھ کی اہم سیاسی شخصیت کا تھا۔

بیرسٹر محسن رانجھا کے الزام نما دعویٰ پر نبیل گبول نے ان سے پوچھا کہ آپ اشارہ کیوں کر رہے ہیں آپ وزیر ہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں آپ جہاز کے مالک کا نام لے لیں مگر بیرسٹر محسن رانجھا نے نام نہ لیا ۔ اس دوران دونوں متحارب رہنمائوں میں گرم گرم بحث شروع ہو گئی ۔اس موقع پر بیرسٹر محسن رانجھا نے نبیل گبول سے سوال کیا کہ جب رائو انوار اسلام آباد میں موجود تھے

تو سندھ حکومت نے ان کی گرفتاری کیلئے آئی جی اسلام آباد کو کیوں لیٹر نہیں لکھا جب کہ سندھ میں موجودگی کے دوران بھی ان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…