منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

15 جنوری کو قتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی 4 سالہ بچی عاصمہ کی ڈی این اے رپورٹ آگئی،افسوسناک انکشافات،چیف جسٹس پاکستان نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے مردان میں عاصمہ کے قتل کا از خود نوٹس لے لیا۔تفصیلات کے مطابق 17 جنوری کے روز مردان کے ضلعی ناظم نے دعویٰ کیا تھا کہ 15 جنوری کو قتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی 4 سالہ بچی عاصمہ سے زیادتی کی گئی جو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوئی جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) مردان میاں سعید کا مؤقف تھا کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ریپ کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔

ڈی جی پنجاب فورنزک ایجنسی کے مطابق عاصمہ کے ڈی این اے میں بچی سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ جمعہ کو چیف جسٹس پاکستان نے عاصمہ کے قتل کا از خود نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی خیبرپختونخوا سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔واضح رہے کہ مردان کے گاؤں گوجر گڑھی کے علاقے جندر پار سے اتوار کو لاپتہ ہونے والی 4 سالہ بچی عاصمہ کی لاش رواں ہفتے 15 جنوری کو کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی۔ ڈی جی پنجاب فورنزک ایجنسی کے مطابق ڈی این اے کے ذریعے عاصمہ سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق 17 جنوری کے روز مردان کے ضلعی ناظم نے دعویٰ کیا تھا کہ 2 روز قبل یعنی 15 جنوری کو قتل کرکے کھیتوں میں پھینکی گئی 4 سالہ بچی عاصمہ سے زیادتی کی گئی جو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوئی جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) مردان میاں سعید کا مؤقف تھا کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ریپ کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عاصمہ کی مردان میں واقع رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔خیبرپختونخوا پولیس اب تک عاصمہ کے قاتلوں کو گرفتاری نہیں کرسکی اور اس حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ کیا جاتا رہا ۔پولیس حکام نے گزشتہ روز 200 افراد کے ڈی این اے کیلئے نمونے حاصل کیے تھے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے عاصمہ فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔

رپورٹ کے مطابق عاصمہ قتل کیس میں شواہد اور مواد ڈی این اے کیلئے پنجاب فورنزک سائنس ایجنسی پہنچایا گیا جس میں کپڑے، جوتے، گلاس، بستر اور گلاس شامل تھا۔ڈی جی پنجاب فورنزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر اشرف طاہر کے مطابق مواد کے ڈی این اے سے ثابت ہوگیا کہ عاصمہ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ڈاکٹر اشرف نے بتایا ڈی این اے کے لیے مقتولہ عاصمہ کے سر کے بال، ناخن اور دیگر مواد بھی بھیجا گیا تھا، بچی کے جسم کے نمونوں کے ڈی این اے سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔ ڈی جی پنجاب فورنزک کے

مطابق کے پی کے پولیس کی جانب سے بھیجے گئے مواد سے ایک شخص کا ڈی این اے اٹھایا گیا ہے، اب اس مواد سے ایک اور شخص کا ڈی این اے لیا جارہا ہے، اگلا مرحلہ عاصمہ کے نمونوں اور مبینہ شخص کے ڈی این اے میچ کرنے کا ہے۔ڈاکٹر اشرف نے بتایا کہ عاصمہ سے زیادتی ثابت ہونے کی رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس کو بھیج دی گئی ہے۔واضح رہے کہ مردان کے گاؤں گوجر گڑھی کے علاقے جندر پار سے اتوار کو لاپتہ ہونے والی 4 سالہ بچی عاصمہ کی لاش رواں ہفتے 15 جنوری کو کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…