منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کے تحقیقاتی کمیٹی پر الزامات، ثبوت سامنے لانے کا اعلان

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن)نقیب اللہ کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی راؤ انوار نے تحقیقاتی ٹیم پر الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں اپنا دشمن قرار دے دیا۔کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں 13 جنوری کو مشکوک پولیس مقابلے میں مارے جانے نقیب اللہ کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں ملیر کے سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت مقابلہ کرنے والی پولیس پارٹی کو نامزد کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز راؤ انوار نے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کی جو اسلام آباد ائیر پورٹ پر ایف آئی اے نے ناکام بنادی جس کے بعد ا?ئی جی سندھ نے معطل ایس ایس پی کی گرفتاری کے لیے ممکنہ اقدامات کے احکامات جاری کیے۔ راؤ انوار نے نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کو اپنا دشمن قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ثبوت سامنے لانے کا اعلان کیا ہے۔راؤ انوار کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کرنے والے ایڈیشنل آئی جی ثناء4 اللہ عباسی اور مخالفت کرنے والے سی ٹی ڈی افسران کے اپنے ہاتھ صاف نہیں، ان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں جو جلد منظر عام پر لائیں گے۔معطل ایس ایس پی نے کیس کی تحقیقات کرنے والوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کو بے بنیاد قرار دیدیا اور حساس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے کا بھی مطالبہ کر دیا۔راؤ انوار نے کہا کہ بعض پولیس افسران ان کے دشمن اور ذاتی بغض رکھتے ہیں، یہی افسران نقیب اللہ کے ورثا کو گمراہ کررہے ہیں۔راو انوار نے سوال کیا کہ ثناء4 اللہ عباسی بتائیں، انہوں نے آج تک کتنے کامیاب آپریشن کیے؟ آج تک سی ٹی ڈی نے جو پولیس مقابلے کییان میں کتنے اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے؟ راؤ انوار نے خود کو پروفیشنل پولیس افسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں کوئی مقابلہ کیا ہے۔واضح رہیکہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی نقیب اللہ کی ہلاکت کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…