جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عمران زینب کو قتل کرنے کے بعد اپنے گھر لے آیا اور اسکی لاش اپنے بستر میں رکھی، قاتل کی ماں سب دیکھتی رہی اوراسکی دادی نے مجھے۔۔ زینب کی والدہ نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کیا مطالبہ کر ڈالا

datetime 25  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اس سے بڑھ کر قیامت کیا ہو گی کہ زینب کا قاتل ہمارے درمیان موجود رہا ، ہمارے ساتھ چلتا پھرتا رہا اور ہمیں علم تک نہیں ہوا، اس کے ہاتھ کاٹ دو، سر عام سنگسار کر دینا چاہئے، عمران کے ساتھ اس کی والدہ بھی جرم میں برابر کی شریک، عمران نے زینب کو قتل کرنے کے بعد اپنے گھر میں اس کی لاش اپنے بستر میں رکھی، پانچ روز تک زینب اس کے پاس رہی،

زینب کی والدہ نے قاتل عمران کے اہلخانہ کو بھی جرم میں برابر کا شریک قرار دیدیا، نجی ٹی وی سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کی والدہ نے کہا ہے کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری سے انہیں سکون ضرور ملا ہے تاہم یہ سب قیامت سے کم نہیں اس سے بڑھ کر قیامت اور کیا ہو گی کہ قاتل ہمارے درمیان موجود تھا اور ہمارے ساتھ چلتا پھرتا رہا اور ہمیں علم تک نہیں ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قاتل عمران کے ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں تاکہ اس کی تکلیف آج سے ہی شروع ہو جائے۔ اسے سر عام سنگسار کی سزا دی جانی چاہئے۔ انہوں نے قاتل عمران کے اہل خانہ کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قاتل عمران کی والدہ کو بیٹے کے کالے کرتوتوں کا پتہ تھا، میں مان ہی نہیں سکتی کہ ان کو علم نہ ہو کہ میرا بیٹا کیا کر رہا ہے۔ وہ سب دیکھتی رہی اور اس کو سب معلوم تھا۔ زینب کی والدہ نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ قاتل عمران زینب کو قتل کرنے کے بعد اپنے گھر لے آیا اور دو سے تین روز تک اس کی لاش اس نے اپنے گھر میں اپنے بستر میں رکھی۔قاتل عمران جب زینب کو اپنے گھر لایا تو زندہ نہیں تھی بلکہ مردہ تھی۔ زینب کی لاش ملنے کے بعد عمران کی دادی مجھ سے افسوس کرنے آئی تھٰیں اور مجھ سے کہا کہ عمران کی والدہ عدت میں ہے نہیں تو وہ بھی تعزیت کے لیے ضرور آتیں۔

غم و غصے کی شدت میں زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر عمران کا خاندان ادھر ہوتا تو وہ اسے اپنےہاتھوں سےمار دیتیں۔ زینب کی والدہ نے حکومت کو بھی زینب کا مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران سیریل کلر کیوں بنا؟کیونکہ حکومت نے خود اس کو سیریل کلر بنایا ، پولیس کی نا اہلی کی وجہ سے وہ وارداتیں کرنے میں کامیاب رہا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…