منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چلڈرن ہسپتال میں داخل کائنات کو کیا بہانہ بناکر اغواء کیا؟بچوں کو کیسے راغب کرتاتھا؟کتنی بچیوں کے ساتھ زیادتی کی؟زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے لرزہ خیز اعترافات

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (ا ین این آئی) زینب قتل کیس کے ملزم عمران نے دوران تفتیش انتہائی سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے 10 بچیوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کرلیا۔پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا جس کی لاش 9جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔پولیس نے 14روز کی تگ و دو کے بعد گزشتہ روز ملزم عمران کو گرفتار کیا جو قصور میں دیگر 8 بچیوں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔نجی ٹی وی نے جے آئی ٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملزم عمران نے

دوران تفتیش انکشافات کیے کہ اس نے زینب کو پونے 7 بجے اغوا کیا، مناسب جگہ نہ ملنے پر زینب کو ڈیڑھ کلو میٹر سے زائد ساتھ لے کر گھوما، زیر تعمیر سوسائٹی میں پکڑے جانے کے خوف سے کوڑے کے ڈھیر پر زینب کو لے گیا۔ملزم عمران نے مزید بتایا کہ وہ جن گھروں میں کام کرتا انہی کی بچیوں کو اغوا کرتا، 8بچیوں سے زیر تعمیر مکانوں جب کہ 2 سے کوڑے کے ڈھیروں پر زیادتی کی۔ذرائع کے مطابق ملزم عمران نے سنسنی خیز انکشاف میں بتایا کہ وہ بچیوں کو نیاز کے چاول، ٹافیاں اور خاص کر جو بچیاں بالوں میں کلپ لگاتی تھیں انہیں کلپ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاتا تھا۔عمران نے مزید بتایا کہ اس نے چلڈرن ہسپتال میں داخل کائنات کو دہی دلوانے کے بہانے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ملزم سے تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم عمران چند روز سے زینب کے گھر بار بار جاکر کئی گئی گھنٹے بیٹھا رہا، عمران کے 8بچیوں کے ساتھ ڈی این اے میچ کرگئے ہیں جبکہ دو بچیوں کے ڈی این اے فارنزک شواہد ضائع ہونے کے باعث میچ نہیں کیا جاسکا لیکن ملزم نے خود 10 بچیوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…