منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’سر عام پھانسی‘‘ زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد پاکستانیوں نے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قصور کی ننھی زینب کے ساتھ زیادتی اور اس معصوم سی بچی کا لرزہ خیز قتل کرنے والا درندہ صف قاتل عمران قانون کے شکنجے میں آچکا ہے۔درندہ صف قاتل کی گرفتاری کے ساتھ ہی پاکستان بھر سے اس مکروہ شخص کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ زور پکڑتاجا رہا ہے۔ زینب کے اندوہناک قتل نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان کی سیاسی،

سماجی شخصیات کے علاوہ کھیلوں سے وابستہ افراد بھی اس اندوہناکواقعہ کی مذمت کے علاوہ قاتل کی جلد از جلد گرفتاری اور عبرتناک سزا کا مطالبہ کررہے تھے تو دوسری جانب شوبز سے وابستہ شخصیات بھی اس واقعہ پر خاموش نہ رہ سکیں اور انہوں نے بھی قاتل کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ قاتل عمران کی گرفتاری کے بعد اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور شوبز و کرکٹ اسٹارز کے علاوہ پاکستان کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص معصوم زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔دوسری جانب سیاسی حلقے بھی زینب اور قصور کی دیگر بچیوں کے اس درندہ صفت قاتل کو سرعام سزائے موت کے حامی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی سر عام پھانسی کیلئے سینٹ میں بل کیلئے خط لکھ دیا ہے۔زینب قتل واقعہ نے جہاں پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہیں پورے ملک میں والدین اپنے بچوں کے حوالے سے نہایت فکر مند نظر آتے تھے۔ زینب قتل کے بعد ملک کے مختلف شہروں سے اسی طرح کے اندوہناک واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں جن میں مردان کی اسما اور آزادکشمیر کی آصفہ کے کیس قابل ذکر ہیں جبکہ راولپنڈی میں بچیوں کے اغوا کا چیف جسٹس نے نوٹس بھی لے لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…