جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

انصاف دینے والے کی نا انصافی، سول جج کی بیوی بچوں سمیت انصاف مانگنے عدالت پہنچ گئی

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

میرپورخاص(مانیٹرنگ ڈیسک)سو ل جج کی بیوی بچوں سمیت انصاف کے لیے پر یس کلب پہنچ گئی، میری اجازت کے بغیر دوسری شادی رچا لی ،خرچہ دینے سے بھی انکاری ہے، انصاف نہ ملا تو سندھ ہائی کورٹ کے سامنے بچوں سمیت خود سوزی کر لو ں گی یہ بات سانگھڑ کی رہاشی ریحانہ راجپوت نے اپنے بچوں سمیت میرپورخاص پر یس کلب میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتائی اس موقع ان کے بچے نو سالہ بیٹی ایمان،آٹھ سالہ

بیٹا عمر ،اور پانچ سالہ بیٹی ایمن ریحانہ کے والد اور والدہ بھی موجود تھے ریحانہ راجپوت نے کہا میرے شوہر محمد عابد جو کہ سول جج سانگھڑ ہیں انہوں نے اپنے والد شمشا د راجپوت کے ساتھ مل کر مجھے بے پنا ہ تشد د کا نشانہ بنایا او ر عطائی ڈاکٹر کے زریعے مجھے نیند کے انجیکشن لگوا کر دوسری شادی کی اجازت چا ہی میرے منع کرنے پر مجھے طلاق دینے کی دھمکی دے کر میرے والدین کو بلایا اور مجھے میرے تینوں بچوں کے ہمراہ زبردستی دھکے دے کر گھر سے نکال دیا تب سے تقریبا ڈیڈہ ماہ سے میں اپنے والدین کے گھر میرپورخاص کے علاقے مغل اعظم ٹاون میں رہ رہی ہوں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مورخہ 8.1.2018کو میرے جج شوہر نے میری اجازت کے بغیر شازیہ ولد خالد اقبال سے دوسری شادی رچا لی ہے جب میرے علم میں یہ بات آئی تو میں نے ان سے اپنی رہاش اور بچوں کے خرچے کا مطالبہ کیا جس پر انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ مجھے میرے گھر والوں اور میرے بھائی ایاز احمد راجپوت جو کہ ڈگری کالج کنری میں لیکچرار ہے کو پولیس مقابلے میں مروانے اور نوکری سے برطرف کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ ،چیئرمین ہیومین رائیٹس کمیشن ،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ سو ل جج کی بیوی بچوں سمیت انصاف کے لیے پر یس کلب پہنچ گئی، میری اجازت کے بغیر دوسری شادی رچا لی ،خرچہ دینے سے بھی انکاری ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…