کالعدم قراردی گئی تنظیموں کی فہرست جاری، سرگرمیوں کی اطلاع 1717 پر دیں

  ہفتہ‬‮ 6 جنوری‬‮ 2018  |  14:05

اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزارت داخلہ نے کالعدم قراردی گئی تنظیموں کی نئی فہرست جاری کردی ہے، کالعدم جماعتوں کی تعداد 72ہوگئی۔ جس میں جماعت الدعوۃ اورفلاح انسانیت فانڈیشن بھی شامل ہیں۔وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ، لشکرطیبہ اور فلاح انسانیت سمیت دیگر کالعدم جماعتوں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پربھی پابندی عائد کردی۔ حکومت نے تمام کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کسی تنظیم اور افراد کو عطیات نہ دیں۔ کالعدم قراردی گئی تنظیموں کی مالی مدد اورمعاونت بھی قابل سزاجرم ہے۔


سلامتی کونسل کی فہرست میں جماعت الدعو ۃکے علاوہ خود لشکر طیبہ، فلاحِ انسانیت فانڈیشن، پاسبانِ اہلحدیث اور پاسبانِ کشمیر بھی شامل ہیں۔حکومت کی جانب سے تنبیہ کی گئی کہ پابندی پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان پابندی پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر پہلے ہی ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرچکی ہے۔اس لئے عوام انہیں صدقات اورعطیات نہ دیں، شہری کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کی اطلاع 1717 پر دیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے کالعدم قراردی گئی تنظیموں کے بارے میں اشتہارجاری کیا ہے، اشتہارمیں سلامتی کونسل کی فہرست میں جماعت الدعو ۃکے علاوہ خود لشکر طیبہ، فلاحِ انسانیت فانڈیشن، پاسبانِ اہلحدیث اور پاسبانِ کشمیر بھی شامل ہیں۔حکومت کی جانب سے تنبیہ کی گئی کہ پابندی پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان پابندی پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر پہلے ہی ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرچکی ہے۔۔ان تنظیموں میں جنداللہ گروپ، قاری عابد گروپ، نوراللہ گروپ، ولی الرحمن گروپ، نظام گروپ، توحید گروپ کے علاوہ دیگر گروہوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیاگیاتھا ۔ ان میں سے زیادہ تر گروپ صوبہ خیبر پی کے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سات کالعدم تنظیمیں شامل ہیں جن میں بلوچستان لبرلیشن آرمی، بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن یونٹ فرنٹ، بلوچستان ریپبلکن آرمی، لشکر بلوچستان، بلوچستان مسلح دفاع تنظیم اور بلوچستان یونٹ آرمی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں کام کرنے والی یہ تنظیمیں مذہبی نہیں ہیں تاہم بلوچستان میں لشکر جھنگوی بھی کافی سرگرم ہے جو باالخصوص ہزارہ برادری کو نشانہ بنا رہی ہے اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں کام کرنے والی تنظیموں تنظیم نوجوانان اہلسنت اور مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، مرکز سبیل آرگنائزیشن، شیعہ طلبا ایکشن کمیٹی شامل ہیں۔ صوبہ سندھ میں پیپلز امن کمیٹی کے علاوہ تحریک طالبان، لشکر جھنگوی اور دیگر ہم خیال تنظیمیں متحرک ہیں جبکہ اس کے علاوہ مختلف گروپ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں جن میں جنداللہ گروپ سرفہرست ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں لشکر جھنگوی، سنی تحریک، تحریک نفاذ شریعت محمدی اور سپاہ صحابہ پاکستان اور لشکر طیبہ زیادہ متحرک ہیں۔واضح رہے کہ 2017 کے اوائل میں وفاقی حکومت نے حافظ سعید کو نظر بند کردیا تھا۔تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی نظر بندی کی مدت میں مزید توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد انہیں نومبر میں رہا کردیا گیا تھا۔رہائی کے بعد امریکا نے حافظ سعید کی دوبارہ گرفتاری اور سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ انکار کی صورت میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی طور پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔امریکی محکمہ خارجہ نے حافظ سعید کی جانب سے حال ہی میں آئندہ انتخابات میں سیاسی مہم چلانے کے ارادے پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا تھاجماعت الدعوۃ پاکستان کے ترجمان یحیی مجاہد نے حکومت کی طرف سے جماعت الدعو ۃاور فلاح انسانیت فانڈیشن کی ایمبولینسوں کواپنی تحویل میں لیے جانے کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو عدالتوں میں جائیں گے اور بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔

موضوعات:

loading...