جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان اسمبلی کے 14اراکین نے وزیر اعلی نواب ثنا ء اللہ زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروا دی

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے 14اراکین نے وزیر اعلی نواب ثنا ء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروا دی تحریک مسلم لیگ (ق) ،جمعیت علماء اسلام (ف)،بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل ) ،عوامی نیشنل پارٹی ، نیشنل پارٹی ،مجلس وحدت مسلمین کے اراکان کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے ،تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز نئے سال کے شروع ہوتے

ہی پا کستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر اور چیف آف جھالا وان وزیر اعلی بلوچستان نواب ثنا ء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کر وانے سے ہوگیا ہے ،منگل کو مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور مجلس وحدت مسلمین کے رکن آغا محمد رضا نے بلوچستان اسمبلی میں آئین کے آر ٹیکل 136کے تحت وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتما د جمع کروا دی اور درخواست کی گئی ہے کہ تحریک کو اسمبلی میں پیش کر نے کے لئے دن مقر رکیا جائے ،تحریک حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے اراکین میر عبدالقدوس بزنجو ،میر عبدالکریم نوشیروانی،ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ،وزیر اعلیٰ کے اسپیشل اسسٹنٹ میر امان اللہ نو تیزئی، نیشنل پارٹی کے رکن میر خالد لانگو ،مجلس وحدت المسلمین کے آغا محمد رضا،اپوزیشن جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل ،میر حمل کلمتی ،جمعیت علماء اسلام کے اراکین شاہد ہ رؤف، حسن بانو رخشانی،عبدالمالک کاکڑ،خلیل الرحمن دمڑ،عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجنےئر زمر ک خان اچکزئی ،آزاد رکن نوابزادہ طارق مگسی کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے ،یہ تحریک ایسے وقت میں جمع کروائی گئی ہے جب وزیر اعلی نواب ثناء اللہ زہری بیرون ملک دورے پر تھے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کی ا طلاع فوری طور پر انہیں بیرون ملک دے دی

گئی اور وہ اپنا دورہ مختصر کر کے وطن روانہ ہوگئے ہیں اور انہوں نے فوری طور پر اتحادی جما عتوں کا اجلاس طلب کرلیا ہے ،وزیر اعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد کوئٹہ میں سیاسی سر گرمیوں کا آغاز عروج پر پہنچ گیا ہے دریں اثناء مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس برنجو اور مجلس وحدت السملین کے آغا محمد رضا نے سیکر ٹری اسمبلی کے پاس تحریک جمع

کروانے کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے اپنی مخلوط حکومت کی تشکیل کے بعد وعدے پورے نہیں کئے ،تحریک جمع کروانا ہمارا جمہوری حق تھا جسے استعما ل کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی قوت کی حما یت حاصل نہیں ہے ہمارے تحفظات تھے جنہیں گزشتہ ڈھائی سالوں میں دور نہیں کیا گیا ہم تحریک کی کامیابی کے لئے تمام جماعتوں سے رابطے کریں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…