بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

پاک فوج کا وہ سربراہ جو بھارتی زیر قبضہ علاقے میں گیارہ کلو میٹر اندر تک چلاگیا اور عید بھی وہاں ہی منائی،حیرت انگیز انکشافات‎

datetime 14  دسمبر‬‮  2017 |

کارگل جنگ کے حوالے سے کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں پاکستان آرمی کی جانب سے کئے گئے اس آپریشن کو بہترین فوجی منصوبہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاہ چن میں بھارتی قبضے کے بعد جنرل ضیاالحق نے کارگل آپریشن کی منصوبہ بندی کی تھی جسے بعد میں بین الاقوامی حالات اور ملکی صورتحال کو دیکھتے ہوئے منسوخ کر دیا گیا۔ ’’آپریشن البدر‘‘کے نام سے کارگل میں شروع کئے گئے آپریشن میں بھارتی فوج

کی سیاہ چن جانے والی سپلائی لائن کو کاٹ دیا گیا تھا جس سے سیاہ چن میں بھارتی موجودگی ختم ہونے کے قریب تھی۔ پاکستان آرمی کے سابق لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کے مطابق اس آپریشن کی منصوبہ بندی انتہائی خفیہ رکھی گئی جس سے صرف چار جرنیل ہی آگاہ تھے۔ ان چار جرنیلوں کی قیادت اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کر رہے تھے۔ پاکستان آرمی کے سابق کرنل اشفا ق حسین نے کارگل جنگ پر لکھی اپنی کتاب ’’وٹنس ٹو بلنڈر‘‘میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کارگل جنگ کے دوران آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر 11کلومیٹر تک بھارتی زیر تسلط علاقے میں گئے اور وہاں موجود پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ ایک رات گزاری۔ کرنل(ر)اشفاق حسین کارگل جنگ کے ناقدین میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کے اس انکشاف کے بعد ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت کے ایک سابق فوجی عہدیدار کیپٹن(ر)بھرت ورما کا کہنا تھا کہ ایک دشمن ملک کے آرمی چیف کا اس طرح 11کلومیٹر اندر آکر ایک رات بسر کرنا بھارتی انٹیلی جنس ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اے این آئی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف امریکہ جا کر جنگ ختم کرنے کا اعلان نہ کرتے تو ہم بھارت کے زیر تسلط 300مربع کلومیٹر کے علاقے پر مکمل قبضہ کر چکے ہوتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…