جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جو کرنا ہے کر لو، یہ کام کسی صورت نہیں کریں گے، پاکستان نے امریکہ کو صاف انکار کر دیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس جو گزشتہ دنوں پاکستان آئے انہوں نے اپنے دورے میں پاکستانی حکام سے ڈو کا پھر مطالبہ کیا، جس کے جواب میں پاکستانی حکام نے انہیں انکار کر دیا لیکن پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے کہا کہ قومی مفاد اور اصولوں پر ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی

وزیر دفاع پاکستانی سرزمین پر مشترکہ آپریشن کا مطالبہ لائے تھے مگر انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ پاکستان کی سرزمین پر مشترکہ آپریشن کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقہ جات میں پاکستانی اور امریکی افواج مل کر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کریں لیکن ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے امریکی وزیر دفاع کی اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی بھی قابل عمل انٹیلی جنس معلومات دی جانے پر پاک آرمیدہشت گردوں کے خلاف خود کارروائی کرے گی مگر کسی بھی غیر ملکی فورس کو پاکستان آ کر آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ امریکہ کہ وزیر دفاع جیمز میٹس نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں امریکہ پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے افغان حکومت سے کہے کہ پاکستان نے جس طرح اپنی سرحد پر باڑ لگائی ہے اسی طرح افغانستان اپنی جانب باڑ لگائے۔ امریکی وزیر دفاع کو افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنے کو کہا گیا اس موقع پر کہا گیا کہ پناہ گزینوں کی آڑ میں چھپے دہشت گردوں کا اس سے خاتمہ ہو گا کیونکہ پناہ گزینوں کی آڑ میں دہشت گردوں کو چھپنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…