جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا کی بندش سے پہلے تو کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ سلیم صافی نے سنگین دعویٰ کر دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی سلیم صافی نے چینل نشریات اور سوشل میڈیا کی بندش کو غلط قرار دے دیا، تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے چینل نشریات اور سوشل میڈیا کی بندش کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بندش ہونے سے پہلے تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس وقت لوگ عجیب سی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں اور اب عجیب و غریب افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا کہ

حکومت نے آپریشن شروع کیا تو شاید سارا معاملہ قابو میں آ جاتا مگر انہوں نے چینل اور انٹرنیٹ بند کرکے خود ہی منفی پیغام دے رہے ہیں کہ جیسے قیامت آ گئی ہو اور اب ہر پاکستانی تشویش میں مبتلا ہے، گومگو کی کیفیت ہے، حکومت نے تو بالکل الٹ کام کیا ہے۔ سلیم صافی نے کہا کہ اگر حکومت نے کچھ کرنا ہی تھا تو بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا، انہوں نے کہا کہ جب مظاہرین گھروں سے نکل رہے تھے تو اس وقت انٹیلی جنس رپورٹس بھی ضرور ہوں گی تو پنجاب حکومت نے انہیں اس وقت آنے سے کیوں نہیں روکا؟ انہوں نے کہا کہ پھر جب یہ لوگ اسلام آباد آ گئے اور وہاں دھرنا دے دیا تو اس کے بعد سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلاتے رہے اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی استعمال کرتے رہے، مگر اس دوران حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا اور جس طرح وہ پروپیگنڈا کرنا چاہتے تھے اور جو باقی لوگ کرنا چاہ رہے تھے وہ انہوں نے بھرپور طریقے سے کر لیا۔ سلیم صافی نے کہا کہ جب ڈیڈ لائن ختم ہو گئی اور ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا اور میڈیا پر دکھایا جا رہا تھا تو خوش آئند بات یہ تھی کہ پولیس کو بندوق استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی اور نشریات بند ہونے تک ایک انسانی جان بھی ضائع نہیں ہوئی تھی لیکن اب حکومت نے جو کر دیا ہے، اس کی وجہ سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، معروف صحافی نے جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر اس طرح یکدم چینلوں کو بند کرنے سے لوگوں کے ذہنوں میں عجیب طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور عوام غیر یقینی سی صورتحال کا شکار ہیں، وہ سوچ رہے ہیں کہ اب پتہ نہیں کیا ہو گا، حکومت نے چینل نشریات اور انٹرنیٹ بند کرکے خود ہی دھرنے والوں کی مدد کی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…