اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

نواز شریف مفاد پرست تھے اور ہیں، نواز شریف کے ذاتی مسائل جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں، بلاول بھٹو کا دبنگ بیان

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف نظریے کے معنی بھی نہیں جانتے ، وہ مفاد پرست تھے اور اب بھی ہیں ، نواز شریف کے ذاتی مسائل جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں ،نوازشریف اپنے بیانات کو چھوڑیں اورقانون کی حکمرانی کو مانیں، ہم نے اپنی پارلیمانی پارٹی کو با اختیار بنایا ہے (ن)لیگ والے ان سے رابطہ کریں لیکن ہمارا واضح موقف سامنے آ چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے

پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظوری کے بھانجے کی شادی میں شرکت کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر قمر زمان کائرہ ، چوہدری منظور اور دیگر بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف نے خود کہا تھاکہ میں عدالتوں کا سامنا کروں گا ۔ وہ جس طرح یوسف رضا گیلانی کو مشورہ دیتے تھے انہیں چاہیے کہ خود بھی قانون کی حکمرانی کو مانیں ۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی گزشتہ 30 سال کی تاریخ دیکھ لی جائے جمہوریت کے خلاف جو بھی سازش ہوئی اس میں وہ شامل رہے ہیں، نواز شریف کے ذاتی مسائل جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں ، ان سے درخواست ہے جو وہ کررہے ہیں نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ سب جماعتیں یک نکاتی ایجنڈے پر راضی ہیں کہ پاکستان میں جمہوری نظام ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، جمہوریت کے بارے میں پیپلزپارٹی کا اپنا نظریہ ہے لیکن بدقسمتی سے نوازشریف نظریے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ذاتی فائدے کے لیے کسی چیز کو تبدیل کرنا نظریہ نہیں ہوتا، نواز شریف مفاد پرست تھے اور اب بھی ہیں۔نواز شریف سویلین سپر میسی کی بات کرتے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ کس کا کیا موقف رہا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقات سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے اپنی پارلیمانی پارٹی کو اختیارات دیئے ہیں،

(م) لیگ والے ان سے رابطہ کریں لیکن اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف واضح طو رپر سامنے لایا جا چکا ہے۔میں نواز شریف سے بات نہیں کروں گا۔انہوں نے اسحاق ڈار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جو شخص اپنا چیک سائن نہیں کر سکتا وہ پاکستان کا چیک سائن کر رہا تھا۔انہوں نے حافظ سعید کی رہائی اور اس پر بھارتی میڈیا کی مہم بارے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں بھارت ، امریکہ یا کسی اور کے بارے میں نہیں سوچنا بلکہ ہمیں قانون کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ کو دیکھنا ہے ۔ جو شدت پسند جماعتیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…