پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

نواز شریف مفاد پرست تھے اور ہیں، نواز شریف کے ذاتی مسائل جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں، بلاول بھٹو کا دبنگ بیان

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف نظریے کے معنی بھی نہیں جانتے ، وہ مفاد پرست تھے اور اب بھی ہیں ، نواز شریف کے ذاتی مسائل جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں ،نوازشریف اپنے بیانات کو چھوڑیں اورقانون کی حکمرانی کو مانیں، ہم نے اپنی پارلیمانی پارٹی کو با اختیار بنایا ہے (ن)لیگ والے ان سے رابطہ کریں لیکن ہمارا واضح موقف سامنے آ چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے

پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظوری کے بھانجے کی شادی میں شرکت کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر قمر زمان کائرہ ، چوہدری منظور اور دیگر بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف نے خود کہا تھاکہ میں عدالتوں کا سامنا کروں گا ۔ وہ جس طرح یوسف رضا گیلانی کو مشورہ دیتے تھے انہیں چاہیے کہ خود بھی قانون کی حکمرانی کو مانیں ۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی گزشتہ 30 سال کی تاریخ دیکھ لی جائے جمہوریت کے خلاف جو بھی سازش ہوئی اس میں وہ شامل رہے ہیں، نواز شریف کے ذاتی مسائل جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں ، ان سے درخواست ہے جو وہ کررہے ہیں نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ سب جماعتیں یک نکاتی ایجنڈے پر راضی ہیں کہ پاکستان میں جمہوری نظام ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، جمہوریت کے بارے میں پیپلزپارٹی کا اپنا نظریہ ہے لیکن بدقسمتی سے نوازشریف نظریے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ذاتی فائدے کے لیے کسی چیز کو تبدیل کرنا نظریہ نہیں ہوتا، نواز شریف مفاد پرست تھے اور اب بھی ہیں۔نواز شریف سویلین سپر میسی کی بات کرتے ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ کس کا کیا موقف رہا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقات سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے اپنی پارلیمانی پارٹی کو اختیارات دیئے ہیں،

(م) لیگ والے ان سے رابطہ کریں لیکن اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف واضح طو رپر سامنے لایا جا چکا ہے۔میں نواز شریف سے بات نہیں کروں گا۔انہوں نے اسحاق ڈار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جو شخص اپنا چیک سائن نہیں کر سکتا وہ پاکستان کا چیک سائن کر رہا تھا۔انہوں نے حافظ سعید کی رہائی اور اس پر بھارتی میڈیا کی مہم بارے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں بھارت ، امریکہ یا کسی اور کے بارے میں نہیں سوچنا بلکہ ہمیں قانون کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ کو دیکھنا ہے ۔ جو شدت پسند جماعتیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…