جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ سیاستدان اس کے ساتھ کیسے تعلق قائم کرلیتے ہیں؟عمران خان آصف زرداری کے ساتھ کیا کرینگے؟جاوید چودھری کے انکشافات‎

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ایک پرانی روایت ہے کوئی شخص دوزخ چلا گیا‘اس نے دیکھا وہاں کسی قسم کی کوئی آگ نہیں جل رہی‘ اس نے سیکورٹی گارڈ سے پوچھا ’’کیا واقعی یہ دوزخ ہے‘‘ گارڈ نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا ’’جی ہاں‘ یہ واقعی جہنم ہے‘‘ اس نے پوچھا ’’پھر یہاں آگ کیوں نہیں جل رہی‘‘ سیکورٹی گارڈ نے مسکرا کر جواب دیا ’’جناب دوزخ میں آگ نہیں ہوتی یہاں ہر شخص اپنے حصے کی آگ ساتھ لے کر آتا ہے‘‘ ہم اس ملک میں ستر سال سے یہ واویلا کر رہے ہیں

’’ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ جمہوریت نہیں چلنے دے رہی‘ یہ سیاسی جماعتوں کو مینج کر لیتی ہے اوراس مینجمنٹ کی وجہ سے سسٹم نہیں چل پا رہا‘‘ یہ اعتراض درست ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے یہ الزام بھی دوزخ کی آگ کی طرح ہے جس طرح ہر شخص اپنے حصے کی آگ ساتھ لے کر دوزخ میں جاتا ہے بالکل اسی طرح ہر سیاسی جماعت‘ ہر کارآمد سیاستدان اپنے حصے کی مینجمنٹ ساتھ لے کر اسٹیبلشمنٹ کے پاس جاتا ہے‘ یہ لوگ خود مینج ہونا چاہتے ہیں‘ یہ اگر مینج نہ ہونا چاہیں تو ہماری اسٹیبلشمنٹ کیا دنیا کی کوئی اسٹیبلشمنٹ انہیں مینج نہیں کر سکتی‘ انسان اگر خود ہی سمجھوتہ کرنا چاہے‘ یہ اگر خود ہی چھتری کے نیچے آنا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے‘ اسے کون باز رکھ سکتا ہے‘ ہمارے سیاستدان کیونکہ خود مینج ہونا چاہتے ہیں چنانچہ یہ مینج ہوتے چلے جا رہے ہیں‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے بیانات کیا ثابت کر رہے ہیں‘ یہ ثابت کر رہے ہیں یہ خود اپنے اپنے حصے کی آگ خود اٹھا کر پھر رہے ہیں‘ یہ خود مینج ہونا چاہ رہے ہیں‘ یہ خود مینج ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن یہ اس کے باوجود ایک دوسرے پر اعتراض بھی کرتے چلے جا رہے ہیں ،یہ باتیں بہرحال نئی نہیں ہیں‘ یہ اعتراضات سیاست کی ننگی سچائیاں ہیں اور ان ننگی سچائیوں سے ملک کا کون سا شہری واقف نہیں

لیکن ان سچائیوں کا اعتراف ملکی تاریخ میں پہلی بار سامنے آیا چنانچہ ملک کی دوسری جماعتوں کا خیال ہے اس اعتراف کی تحقیقات ہونی چاہیے ،کیا یہ تحقیقات ممکن ہیں اور یہ تحقیقات کرے گا کون‘ جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے گو نواز گو کے بعد نو زرداری نو کی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا، کیا عمران خان زرداری صاحب کو بھی میاں نواز شریف کی طرح سیاست سے آؤٹ کر سکیں گے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…