جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

52سینیٹرز کی ریٹائرمنٹ،کون کون جارہا ہے؟ بڑے بڑے نام سامنے آگئے

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد /لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12، سندھ کے 11، خیبر پختونخوا کے 11، بلوچستان کے 11، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 2اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے 4سینیٹرز آئندہ سال 11مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق 52میں سے 18سینیٹرز کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے، 9 کا مسلم لیگ (ن) ، 5کا عوامی نیشنل پارٹی ، 4کا مسلم لیگ (ق) ، 4متحدہ قومی موومنٹ ،

3جمعیت علما اسلام (ف) ، 2بلوچ نیشنل پارٹی (اے)اور ایک کا تعلق پاکستان تحریک انصاف اور ایک پاکستان مسلم لیگ (ف) سے ہے جبکہ 5کا آزاد سینیٹرز بھی اگلے سال اپنا وقت مکمل کرلیں گے۔ریٹائر ہونے والے نمایاں سینیٹرز میں سے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، وزیر خزانہ اسحق ڈار، قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، مشاہد حسین سید، فرحت اللہ بابر، اعظم سواتی، کامران مائیکل، شاہی سید، کامل علی آغا، طلحہ محمود، طاہر حسین مشاہدی، نصرین جلیل اور الیاس بلور شامل ہیں۔سینیٹرز کے ریٹائر ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق) کی سینیٹ میں نمائندگی بھی ختم ہوجائے گی۔پنجاب سے ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں مسلم لیگ (ن) کے محمد حمزہ، محمد ظفراللہ خان، سعود مجید، آصف سعید کرمانی، اسحق ڈار جبکہ مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، آزاد سینیٹر محمد محسن علی آغا اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن شامل ہیں۔سندھ سے اپنی مدت پوری کرنے والے 12سینیٹرز میں پیپلز پارٹی کے مرتضی وہاب، کریم احمد خواجہ، رضا ربانی، مختار احمد دھامرہ، تاج حیدر، سحر کامران اور ہری رام جبکہ ایم کیو ایم کے کرنل (ر)طاہر حسین مشاہدی، مولانا تنویر الحق تھانوی، محمد فروغ نسیم اور نسرین جلیل ہیں اور دیگر میں مسلم لیگ فنکشنل کے مظفر حسین شاہ بھی شامل ہیں۔ریٹائر ہونے والے خیبر پختونخوا کے 11سینیٹرز میں احمد حسن (پی پی پی)، باز محمد خان (اے این پی)،

حاجی سیف اللہ خان بنگش (پی پی پی)، اعظم خان سواتی (پی ٹی آئی)، محمد طلحہ محمود (جے یو آئی ف) ،نثار محمد (مسلم لیگ (ن) ،شاہی سید (اے این پی)، فرحت اللہ بابر (پی پی پی)، الیاس احمد بلور (اے این پی)، روبینہ خالد (پی پی پی)اور زاہدہ خان (اے این پی) شامل ہیں۔جبکہ بلوچستان سے ریٹائر ہونے والے 11سینیٹرز میں محمد داد خان اچکزئی (اے این پی)، مولونا حافظ حمدالل (جے یو آئی ف)، میر اسراراللہ خان زہری (بی این پی اے) ،محمد یوسف (پی پی پی)، نواب سیف اللہ مگسی (پی پی پی)، سعید الحسن مندوخیل (مسلم لیگ (ن) ، سردار فتح محمد حسنی ( پی پی پی)، مفتی عبدالستار (جے یو آئی ف)، روزی خان کاکڑ (پی پی پی)، نسیمہ احسن (بی این پی اے) اور روبینہ عرفان (مسلم لیگ (ن) ) شامل ہیں۔اگلے سال ریٹائر ہونے والوں میں فاٹا کے چار آزاد سینیٹرز ہدایت اللہ، ہلال الرحمن، نجم الحسن اور محمد صالح شاہ شامل ہیں۔اسلام آباد کے دو سینیٹرز عثمان سیف اللہ (پی پی پی) اور مشاہد حسین ( مسلم لیگ (ق) بھی اگلے سال ریٹائر ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…