جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم شہر میں واقع لڑکیوں کے سرکاری اسکول نے برطانوی ایوارڈ جیت لیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

گوجرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) گوجرہ کے ایک اور لڑکیوں کے سرکاری اسکول نے برطانوی ایوارڈ جیت لیا۔تفصیلات کے مطابق برٹش کونسل کے زیر اہتمام پاکستان سمیت دنیا کے دیگر پانچ ممالک جن میں برطانیہ،تائیوان،یمن،مصر کے اسکولوں کے مابین سات مختلف کیٹا گریز میں مقابلہ ہوا جس میں گورنمنٹ گرلز ہاکی اسکول گوجرہ نے مقابلہ میں شامل دیگر پاکستانی اسکول سمیت دیگر مذکورہ ممالک کے اسکولوں کو سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا اور

آخر کارپاکستان کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ کے شہری علاقہ میں قائم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گوجرہ نے جیت کاسہر اپنے سر سجا لیا۔قبل ازیں رواں سال ہی گوجرہ ہی کے علاقہ نواں لاہور کے ایک پرائمری گرلز اسکول نے برٹش ایوارڈ جیتا تھا۔ ایوارڈ تقسیم کی تقریب گذشتہ روز لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں منعقد ہو ئی جس میں برٹش کونسل انتظامیہ نے جیت کا اوّل انعام اور ایوارڈ اسکول کی ہیڈ مسٹریس ناصرہ انور نے وصول کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہیڈ مسٹریس کا کہنا تھا کہ جیت کا اصل سہرا اسکول اساتذ ہ اور طلباء کی محنت کے سر پر ہے جنہوں نے مقابلہ میں بھرپور کوشش کرکے اوّل انعام اپنے نام کیا۔انہوں نے کہا کہ گوجرہ کی نوجوان نسل میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے اور دنیا کی دوسری اقوام سے کسی بھی طور کم نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاکی کے کھیل کے ساتھ ساتھ گوجرہ نے تعلیم کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے اور تعلیم کے شعبہ میں گوجرہ بہت ہی زرخیز علاقہ ہے یہاں بہت ہی قابل دماغ پیدا ہو ئے ہیں جو ملک و قوم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔حکومت کو گوجرہ کے تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنایا جا سکے ۔برٹش کونسل ایوارڈ جیتنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور انتظامیہ کو مبارکباد کا پیغام بھجوایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…