ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

ڈپٹی وزیر اعظم اور نائب وزیر اعلیٰ کے عہدوں کی تخلیق،فیصلہ سنادیاگیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ڈپٹی وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعلیٰ سے متعلق آئینی ترمیمی بل مسترد کردیا، جس میں وزیراعظم کے علالت، بیرون ملک دورے یا انتقال کی صورت میں قائم مقام وزیر اعظم کے عہدے کی ضرورت پر زور دیا گیاتھا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں اگر کوئی وزیر سینئر ترین وفاقی وزیر بنتا ہے

تو وزیراعظم کی واپسی پر یہ عہدہ ختم ہوجاتا ہے۔سینیٹر بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ اگر وزیراعظم کا قتل ہو یا شدید علیل ہو تو برطانیہ نے قانون بنایا کہ ایک ایمرجنسی کابینہ ایسے موقع پر بنے،ایک وقت تھا کہ چوہدری پرویز الہی خود کو ڈپٹی وزیر اعظم کہتے تھے، نیب کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے بننے والی کمیٹی میں اب میں نہیں جاتا، انہوں نے نیب کے احتساب سے ججوں اور جرنیلوں کو نکال دیا اب وہاں جانے کا فائدہ نہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ جو صوبہ چاہے سی سی آئی کا اجلاس بلاسکتا ہے ،اگلی بریفنگ 16 نومبر کو ہے، جس میں ہم نے چیئرمین نیب کو بلایا ہے، جاننا چاہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کے کیا عزائم ہیں،ہم چیئرمین نیب سے پوچھیں گے کہ صوبوں میں احتساب کے لیے ان کے کیا پلان ہیں۔منگل کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس جا وید عباسی کی صدارت میں ہوا جس میں آئین کے آرٹیکل 95 اے میں ترمیم پر بحث ہوئی ۔بل محسن لغاری نے کمیٹی میں پیش کیا

۔جس چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے استفسار کیا کہ دنیا کے کیا دیگر ممالک میں یہ روایت ہے کہ اگر وزیراعظم ملک سے باہر ہو تو کوئی قائم مقام وزیر اعظم بھی بنتا ہے کہ نہیں، سینیٹر فاروق نائیک نے کہا کہ وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں اگر کوئی وزیر سینئر ترین وفاقی وزیر بنتا ہے تو وزیراعظم کی واپسی پر یہ عہدہ ختم ہوجاتا ہے، سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر وزیراعظم کا قتل ہو یا شدید علیل ہو تو برطانیہ نے قانون بنایا کہ ایک ایمرجنسی کیبنٹ ایسے موقع پر بنے، ایک وقت تھا کہ چوہدری پرویز الہی خود کو ڈپٹی پرائم منسٹر کہتے تھے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آرٹیکل 95 اے میں ترمیم کا بل مسترد کردیامشترکہ مفادات کونسل میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی کے حوالے سے آئینی بل پر بحث ہوئی ، بل آئین کے آرٹیکل 153 میں ترمیم سے متعلق تھا ، کمیٹی نے بل پر وزارت قانون سے جواب طلب کرلیا ۔ مشترکہ مفادات کونسل میں تمام صوبوں کی برابر نمایندگی کا بل سینیٹر مرتضی وہاب نے پیش کیا ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ جو صوبہ چاہے سی سی آئی کا اجلاس بلاسکتا ہے ،اگلی بریفنگ 16 نومبر کو ہے، جس میں ہم نے چیئرمین نیب کو بلایا ہے، جاننا چاہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کے کیا عزائم ہیں،ہم چیئرمین نیب سے پوچھیں گے کہ صوبوں میں احتساب کے لیے ان کے کیا پلان ہیں،سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ نیب کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے بننے والی کمیٹی میں اب میں نہیں جاتا، انہوں نے نیب کے احتساب سے ججوں اور جرنیلوں کو نکال دیا اب وہاں جانے کا فائدہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…