جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا اجلاس بلا کر ملتوی کردینا پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق ہے،خورشید شاہ

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی قومی اسمبلی میں اپو زیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ چاہتے ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں، حکومت کا اجلاس بلا کر ملتوی کردینا پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق ہے، حکومت حلقہ بندیوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے سے گریز کررہی ہے، حکومت غلط بیانی کررہی ہے کہ

پرانی حلقہ بندیوں پرا لیکشن نہیں ہوسکتے، حکومت کو نئی حلقہ بندیوں کا شوق ہے تو پہلے مردم شماری کے نتائج جاری کرے، مردم شماری کے نتائج جاری ہونے تک پرانی حلقہ بندیاں موثر ہیں۔منگل کو خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز طے تھا کہ قومی اسمبلی اجلاس اگلے منگل تک چلے گا، اچانک کہا گیا کہ منگل کو اجلاس نہیں ہوگا، بعدمیں بلا لیں گے، منگل کو اجلاس کرنے سے حکومت ہچکچا رہی تھی، منگل کو سینٹ سے منظور الیکشن ترمیمی بل منظور ہونا تھا، حکومت کا اس طرح اجلاس ختم کرنا پارلیمنٹ کے ساتھ بڑا مذاق ہے، پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کیے بغیر اجلاس ختم کردیا گیا، انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کے باوجوداپنے ارکان کی حاضری بھی پوری نہیں کرسکی، یہ حکومت کی ناکامی اوران کے ارکان کا اپنی حکومت پر عدم اعتماد ہے، حکومت حلقہ بندیوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے سے کیوں گھبرارہی ہے، ہم چاہتے ہیںالیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں، اس موقع پر نوید قمر نے کہا کہ حکومت غلط بیانی کررہی ہے، کہ پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن نہیں ہوسکتے، آئینی تقاضہ ہے کہ مردم شماری کے نتائج جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں نئی ہوں۔ مردم شماری کے نتائج جاری ہونے تک پرانی حلقہ بندیوں موثر ہیں۔حکومت کو شوق ہے کہ تو پھر پہلے مردم شماری کے نتائج لاگوکرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…