جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شرجیل انعام میمن نے نیب کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے احتساب عدالت میں چیلنج کردیا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے سابق وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے نیب کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے احتساب عدالت میں چیلنج کردیا ہے جبکہ احتساب عدالت نے شرجیل میمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 نومبر تک ملتوی کردی۔

پیرکو کراچی کی احتساب عدالت میں محکمہ اطلاعات میں 5ارب76کروڑروپے کرپشن کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر شرجیل انعام میمن سمیت 11 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ شرجیل میمن نے احتساب عدالت میں اپنی گرفتاری کو چیلنج کردیا۔سماعت کے دوران شرجیل میمن کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل کی گرفتاری کوغیرقانونی اورحبس بے جا قرار دیا جائے کیونکہ 23 اکتوبر کو ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری نہیں ہوئے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ پہلے جاری ہوچکے تھے، معطل وارنٹ درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد بحال ہو گئے۔شرجیل میمن کے وکیل عامرنقوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر بات مانی جائے تو یہ دیگر 11 ملزمان کی غیرقانونی گرفتاری کا اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے اختیارات ہیں تو ملزمان کے بھی حقوق ہیں، گریڈ 20 کے سیکرٹری کو ہتھکڑیاں لگائی گئی ہیں۔شرجیل مین کے وکیل نے کہا کہ نیب کا رویہ توہین عدالت کے مترادف ہے۔ عامر رضا نقوی نے کہا کہ نیب نے شرجیل میمن و دیگر ملزمان کی گرفتاری ظاہر کرنے میں عدالت کو گمراہ کیا اور جھوٹ بولا گیا کہ ملزمان کو پاسپورٹ آفس سے گرفتار کیا گیا حالانکہ گرفتاریاں عدالتی حدود سے ہوئیں۔ شرجیل میمن کے وکیل نے کہا کہ نیب نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے متعلق بھی غلط بیانی کی جس پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے اور نیب کے بیان

کی رو سے دیگر ملزمان کی گرفتاری غیرقانونی ہے، جبکہ ملزمان کو جیل میں بی کلاس کی سہولت دی جائے بعدازاں احتساب عدالت نے شرجیل میمن کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 نومبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…