اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پیشی کے موقع پر لیگی رہنما نوازشریف کے احترام میں کھڑے ہوگئے ،اچانک ایک شخص سامنے آیااور آتے ہی نوازشریف کو جھک کرسلام کیا ، انکے گھٹنوں کو ہاتھ لگائے یہ شخص کون تھا،منظر دیکھ کر سب ششدر

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت پہنچے تو کمرہ عدالت میں پہلے سے موجود پارٹی رہنماﺅں نے ان کا استقبال کیا اور احتراماً تمام پارٹی رہنما کھڑے ہوگئے۔ سینیٹر پرویز رشید نے نواز شریف کو جھک کر سلام کیا اور ان کے گھٹنوں کو ہاتھ بھی لگایا۔ سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق‘ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب‘ دانیال عزیز‘ طلال چوہدری‘ امیر مقام ‘ سینیٹر مشاہد اللہ‘ محسن شاہ نواز رانجھا‘

طارق فضل چوہدری اور دیگر رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔دریں اثنا سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے اورڈکٹیٹر کی راہ ہموار کرے والی عدلیہ کا حامی نہیں اور ملک کا عدالتی نظام درست ہونا چاہیے ‘ کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں ہورہا‘ ہمارے ٹکرائو کی بات ہوتی ہے ہمیں ٹکر مارنے والے کو کوئی نہیں پوچھتا‘ جب بھی مارچ آتا ہے تو مارچ کی افواہیں گردش کرتی ہیں‘ زرداری صاحب مجھے گالیاں نہیں دے رہے کسی اور کو خوش کررہے ہیں‘ وکلاء کنونشن میں پوچھے گئے 12 سوالات میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں ملا‘ توہین عدالت صرف باہر ہی نہیں اندر سے بھی ہوسکتی ہے۔ و ہ یہاں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ این آر او نہ تو ہم نے ماضی میں کیا اور نہ کریں گے۔ ماضی میں جنہوں نے این آر او کیا ہے ان سے پوچھیں این آر او کیا ہوتا ہے۔ ہماری طرف سے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ جو لوگ ہمارے خاندان میں اختلافات کی خواہش رکھتے ہیں ان کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوئی۔ ہم آزاد عدلیہ کے بڑے حامی ہیں عدالتوں کا کام ہے کہ خودمختار فیصلے کرے۔ میں انصاف کے لئے لڑرہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کی توہین کون کررہا ہے ریفرنسز کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے پیشیاں بھگت رہا ہوں ریفرنسز میں صرف کاروبار کے گرد باتیں گھوم رہی ہیں۔ میرے کالج سے پاس آئوٹ ہونے کے وقت سے کیسز بنائے گئے ہیں۔ آصف زرداری کسی کو خوش کرنے کے لئے میرے خلاف باتیں کررہے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کس لئے سزا بھگت رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جس کی سزا دی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے

ججز نے ریمارکس دیئے کہ کیس کرپشن کا نہیں ہے کیا سی پیک اور کراچی میں امن لانے کی سزا دی جارہی ہے۔ ایسی عدلیہ کا حامی نہیں جو ڈکٹیٹر کی راہ ہموار کرے۔ آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد کی نظریہ ضرورت ایجاد کرنے والی عدلیہ کا حامی نہیں ہوں۔ ڈکٹیٹر کو خوش آمدید کہنے اور ہار پہنانے والی عدلیہ کا حامی نہیں ہوں۔ ہمارے ٹکرائو کی بات ہوتی ہے ہمیں ٹکر مارنے والے کو کوئی نہیں پوچھتا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مارچ آتا ہے

تو مارچ کی افواہیں گردش کرتی ہیں کسی قسم کا این آر او نہیں ہورہا۔ عدالتی نظام درست ہونا چاہئے۔ ٹیکنو کریٹ حکومت سے متعلق سترہ سال سے سن رہا ہوں کبھی نہیں دیکھا کسی کیس میں سینئر جج نگرانی کررہا ہو۔ میرے ریفرنس میں نگران جج کیوں ہے۔ ہزاروں کیس چل رہے ہیں کسی کی نگرانی نہیں ہورہی توہین عدالت باہر ہی نہیں اندر سے بھی ہوسکتی ہ ے۔ وکلاء کنونشن میں پوچھے گئے بارہ سوالات میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہیں ملا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…