اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

حملے میں زخمی ہونیوالے صحافی احمد نورانی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے متعلق تردید کر دی، سنگین الزام عائد

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی احمد نورانی نے اپنے اوپر حملے کے بعد اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کر دی، تفصیلات کے مطابق معروف صحافی احمد نورانی نے اپنے انٹرویو میں لگنے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میرے حوالے سے جھوٹی خبر پھیلائی گئی کہ میں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو فون کیا،

احمد نورانی نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور اس کے علاوہ میرے حوالے سے یہ بھی کہنا کہ میں نے کسی پر شک کا اظہار نہیں کیا یہ بھی تحقیقات کو متاثر کرنے کے لیے پروپیگنڈہ ہے۔ معروف صحافی احمد نورانی نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے اوپر کیے گئے حملے پر میرے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے اس دوران کہا کہ میں اپنے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی وصاحت بھی کرنا چاہتا ہوں کہ چند خبر دینے والے اداروں نے میرے بارے خبر جاری کی کہ میں نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے خود رابطہ کیا ہے اور ان سے کہا کہ میں نے کسی پر بھی شک کا اظہار نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل جھوٹ پر مبنی ہے میں نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے رابطہ نہیں کیا بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مجھ سے رابطہ کیا اور انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ کچھ اداروں نے حقائق کو غلط انداز سے پیش کیا کہ میں نے ان سے رابطہ کرکے کہا کہ مجھے کسی پر شک نہیں، یہ سب سراسر غلط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے پولیس کو اپنے دیے گئے تحریری بیان میں ایک مخصوص شخص کو نامزد کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…