جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی عمرہ زائرین مشکل میں پھنس گئے، ہزاروں افراد خوار ، سعودی سفارتخانے نے نیا حکم جاری کر دیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر اورخیبرپختونخوا سے عمرہ پر جانے والے زائرین کیلئے فنگر پرنٹس کے شرط سے ہزاروں افراد رُل گئے،یونیورسٹی روڈ پرقائم واحد دفتر میں روزانہ ہزاروں افراد فنگرپرنٹس کیلئے آتے ہیں ۔فنگرپرنٹس کیلئے مرد وخواتین ایک ہی قطار میں گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہوگئے ٗفنگرپرنٹس آفس چوتھی منزل پرواقع ہے ،لفٹ کے بغیر چار منزلوں پر چڑھنے کے علاوہ پانی اور دیگر سہولیات تک میسر نہیں۔

سعودی عرب حکومت کی جانب سے عمرے پر جانے والے زائرین پر فنگر پرنٹس کے شرط سے ہزاروں افراد رُل گئے ۔ عمرہ پرجانیوالے زائرین کیلئے سعودی حکومت نے نئی پالیسی بنالی،یونیورسٹی روڈ الحاج پلازہ میں فنگرپرنٹس آفس قائم کیاگیا ہے تاہم وہاں پر کوئی سہولت میسر نہیں،صوبہ بھر سے لوگ فنگرپرنٹس کے لئے یہاں توپہنچ جاتے ہیں تاہم فنگرپرنٹس کاؤنٹر پر پہنچے میں دن گزرجاتا ہے ۔آفس کے آس پاس بیٹھنے،پانی اورواش تک کوئی سہولت موجود نہیں جس سے لوگوں کوشدید مشکلات کاسامنا ہے،فنگرپرنٹس کے لئے آئے شہریوں نورزمان اورشیردل کاکہنا تھا کہ آخر ہماری گناہ کیا ہے ،ہم نے شناختی کارڈ اورپاسپورٹ کس لئے بنایا ہے اب عمرہ پر جانے کیلئے فنگر پرنٹس کے نام پرہمیں ذلیل کررہے ہیں۔عمرہ پر جانے کے خواہش مند ہزاروں افراد یونیورسٹی روڈ کے ایک نجی پلازے میں فنگر پرنٹس کے لیئے آ توجاتے ہیں مگر یہاں پہنچ کر انجانے مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔قطار میں کھڑے شہریوں کاکہنا تھا کہ حکومت فی الفور اس مسئلے کاحل نکالیں۔ ہم سے چھ سو روپے بائیومیٹرک کے نام پر وصول کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی حکومت نے پاکستانی حاجیوں اورعمر ہ زائرین کے لئے بائیومیٹرک کی شرط عائد کردی اوراس کیلئے اعتماد نامی کمپنی سے بائیومیٹرک کرانے کی ہدایت کی گئی ہے،جس کے پورے پاکستان میں صرف تین دفاتر ہیں، سعودی سفارتخانے نے صرف اعتماد کمپنی سے بائیومیٹرک کاکہاگیا ہے،30اکتوبر کے بعدبائیومیٹرک تصدیق کے بغیرکوئی پاسپورٹ وصول نہیں کیاجائیگا،ٹریول ایجنٹس اورعمرہ زائدین نے موجودہ صورتحال پرشدیداحتجاج بھی کیا ہے اورحکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور سعودی حکومت کیساتھ اس معاملہ کواٹھائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…