جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلحہ لائسنسوں کا اجراء،وزیراعظم نے احکامات جاری کردیئے

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے طریقہ کار کو آسان اور عوام دوست بنانے کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کر دی اورکہا کہ وزارت داخلہ ممنوعہ بور اسلحہ کے لائسنسوں کے اجراء کی پالیسی کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے،

وزارت داخلہ کی طرف سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے ممنوعہ بور اسلحہ کے صرف 410لائسنس جبکہ سال 2010سے 2012میں19145اور نگران حکومت نے 2013میں 25789ممنوعہ بور اسلحہ کے لائسنس جاری کئے۔منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اسلحہ لائسنسوں کے معاملے پر اجلاس ہوا، جس میں وزارت داخلہ کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اسلحہ لائسنسوں کے اجراء پر بریفنگ دی گئی، سیکرٹری داخلہ نے وزیراعظم کو وفاق اور صوبوں کی طرف سے جاری کئے جانے والے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اوربتایا کہ سال 2010سے 2012کے دوران ممنوعہ بور اسلحہ کے 19145لائسنس جاری کئے گئے، نگران حکومت نے 2013میں 25789ممنوعہ بور اسلحہ کے لائسنس جاری کئے، موجودہ حکومت نے ممنوعہ بور اسلحہ کے صرف 410لائسنس جاری کئے اور ان میں سے 400لائسنس واپڈا کو دیئے گئے

جبکہ 10لائسنس دیگر افراد کو جاری کئے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلحہ لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کرانے کیلئے 30دسمبر2017ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے،30دسمبر تک کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے والے تمام لائسنس منسوخ تصور کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارت داخلہ کو اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے طریقہ کار کو آسان اور عوام دوست بنانے کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تمام اسلحہ لائسنسز کو نادرا کے قومی شناختی کارڈز کے ڈیٹا بیس سے لنک کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…