جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کنڑ کے ڈپٹی گورنر کے دو بھائی اور بھتیجا بھی لاپتہ

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

پشاور(اے این این) پشاور سے کچھ روز قبل لاپتہ ہونے والے افغان صوبے کنڑ کے ڈپٹی گورنر قاضی نبی احمدی کے دو بھائی اور ایک بھتیجا بھی پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق قاضی محمد نبی احمدی کے چار روز بعد ان کے بھائی حبیب اللہ بھی پشاور سے پراسرار طور پرلاپتا ہو گئے ، ایک پولیس افسرنے بتایا کہ پچھلے دو روز سے حبیب اللہ کا ٹیلی فون بند مل رہا ہے۔ایک افغان سفارت کار نے کہاہے کہ صرف حبیب اللہ ہی نہیں بلکہ قاضی محمد نبی کے ایک اور بھائی یعقوب خان بھی اپنے بیٹے سمیت چترال سے لاپتا ہیں۔محمد نبی کی پراسرار گمشدگی سے لے کر اب تک وہ مسلسل پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ڈپٹی گورنر، ان کے دونوں بھائیوں اور بھتیجے کو باحفاظت بازیاب کرایا جاسکے۔ افغان سفارتکار نے کہا کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حکام نے انہیں بتایا ہے کہ وہ لاپتا ہونے والے افرادکے بازیابی کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے ۔وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محسود نے بھی اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے

اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ واضح رہے کہ افغان صوبے کنڑ کے ڈپٹی گورنر قاضی محمد نبی احمدی علاج کی غرض سے پشاور آئے تھے اور 27 اکتوبر کو پشاور کے علاقے ڈبگری گارڈن سے لاپتا ہوگئے تھے۔ڈپٹی گورنر کے بھائی حبیب اللہ نے پشاور کے تھانہ شرقی میں رپورٹ درج کراتے ہوئے

بتایا تھا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ رکشے میں ڈاکٹر سے ملنے ڈبگری گارڈن جارہے تھے کہ شاہی مہمان خانے کے قریب ریلوے لائن کے فلائی اوور پر موجود بعض افراد ان کے بھائی کو رکشے سے اتار کر کالے رنگ کی پراڈو جیپ میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…