جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

13سسرالیوں کو زہردے کرہلاک کرنیوالی ملزمہ گرفتار،اتنے زیادہ افراد کو زہر کیوں دیا؟افسوسناک انکشافات

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

مظفر گڑھ(مانیٹرنگ ڈیسک)مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے تھانہ کندائی کی بستی لاشاری میں ہونے والے ہولناک واقعہ میں جس میں 13 افراد زہریلی لسی پینے سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے. اس دردناک سانحہ کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں ٗپولیس کی ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ یہ سانحہ زبردستی کی شادی کا شاخسانہ ہے اور پولیس نے

اس سانحہ کی مبینہ مرکزی ملزمہ آسیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے امجد کی ڈیڑھ ماہ قبل آسیہ سے اس کے نانا اور والد نے زبردستی شادی کر دی تھی.آسیہ امجد سے یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی, وہ مبینہ طور پرشاہد کو پسند کرتی تھی.اس شادی کے چند روز بعد آسیہ واپس میکے چلی گئی. سانحہ سے دو روز قبل آسیہ کے نانا اور والد آسیہ کو زبردستی سسرال چھوڑ گئے تھے. مبینہ طور پر آسیہ نے اپنے گھر والوں کو دھمکی دی کہ آپ لوگ مجھ سے زبردستی کررہے ہیں اب میں زندہ رہوں گی یا امجد زندہ رہے گا. لہذا آسیہ نے ایک روز قبل اپنے آشنا شاہد اور شاہد کی ممانی زرینہ مائی کے مشورہ سے چوہے مار گولیاں شاہد کے زریعے منگوا کر دودھ میں ملا دیں جس سے سارا دودھ زہریلا ہو گیا.اس زہریلے دودھ سے گھر والوں کے لئے صبح ناشتے میں لسی بنائی گئی. خاندان کے تمام افراد نے وہ زہریلی لسی پی لی. زہریلی لسی پی کر 13 افراد ہلاک ہو گئے،جبکہ 14افرادافراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں. تھانہ کندائی پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان آسیہ بی بی, زرینہ بی بی اور شاہد کو گرفتار کر لیا ہے اور زہر کی پڑیا بھی برآمد کر لی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…