بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی منت سماجت کے باوجود نواز شریف نے ان کے دوست کو کیسے دردناک طریقے سے قتل کروایا کپتان نے اب تک کا سب سے سنگین الزام عائد کر دیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف پولیس کے ذریعے بندے قتل کرواتے رہے، میرے دوست کو پولیس کے ذریعے ڈنڈے مروا مروا کر قتل کروایا، کپتان کے ن لیگ کے قائد پر سنگین الزامات، ایک بار پھر مافیا قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق منڈی بہائو الدین کے جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ن لیگ کے قائد نواز شریف پر سنگین الزامات عائد

\کرتے ہوئے انہیں قاتل اور مافیا قرار دیا ہے۔ عمران خان نے 1986کا ایک واقعہ جلسہ عام میں سناتے ہوئے کہا کہ ان دنوں میرے نواز شریف سے تعلقات اچھے تھے، میرے ایک دوست میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمارا ایک کارکن ہے جسے کا نام پولیس کی لسٹ میں آچکا ہے ، یہ لسٹ وہ ہے جس میں شامل افراد کو پولیس ماورائےعدالت قتل کردیتی ہے۔ آپ نواز شریف سے میری ملاقات کروائیں اس کارکن کو بچانا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ میں اپنے دوست کو لے کر نواز شریف کے پاس چلا گیا جہاں میرے دوست نے نواز شریف سے کہا کہ پولیس کی لسٹ میں ہمارے بندے کا نام آگیا ہے آپ پولیس کو روکیں کہ وہ اسے قتل نہ کرے جس پر نواز شریف نے معصوم شکل بناتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہو گامیں پولیس کو احکامات جاری کردوں گا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ پولیس ماورائے عدالت لوگوں کے قتل کیلئے کوئی لسٹ بناتی ہے جس کی منظوری نواز شریف دیتے تھے۔ عمران خان بتاتے ہیں کہ اگلے ہی دن مجھے یہ خبر ملی کہ میرے دوست جس کارکن کو بچانے کیلئے میرے ساتھ نواز شریف کے پاس گئے تھے اس کو پولیس نے ڈنڈے مار مار کر قتل کر دیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ میں نے آج تک کسی کو نہیں بتایا آج بتارہا ہوں کیونکہ آپ کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے

نہیں بلکہ مافیا سے ہے کیونکہ جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…