بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی میں اربوں کی سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں پر سختی شروع،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی خزانہ نے دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں پاکستانیوں کی جانب سے اربوں روپے کی غیر قانو نی سرمایہ کاری کے معاملہ پر مز ید تحقیقات کے لئے آئندہ اجلاس میں وزارت خارجہ اور ایس ای سی پی حکام کو طلب کرلیا،کمیٹی نے ایف بی آر کو یو اے ای میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کی معلومات کے حصول کا عمل تیز کرنے کی سفارش کردی ،

کمیٹی نے یو اے ای میں تین پاکستانیوں کی انکوائریز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔منگل کو قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی خزانہ کا اجلاس ڈاکٹر شذرا منصب کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں دبئی لیکس کے معاملے پر اسٹیٹ بینک, نیب اور ایس ای سی پی نے بریفنگ دی۔ کمیٹی کنونئیر ڈاکٹر شذرا منصب نے کہاکہ 2006 سے دبئی میں پاکستانی ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کر رہے ہیں۔11 سال میں کتنے ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔اسد عمر نے کہاکہ گذشتہ چار سال میں پاکستانیوں نے 8 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ دبئی حکام سے سرمایہ کاری کی تفصیلات کے لیے آخری خط لکھا ہے۔دبئی حکام نے وزارت خارجہ کے ذریعے جواب دیا ہے۔دبئی حکام نے پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے کسی پاکستانی کو بیرون ملک ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دی

۔ایف آئی اے حکام نے کہا کہ 2015 میں دبئی میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری سے متعلق کی تین انکوائریز رجسٹرڈ کی گئیں۔دبئی میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری ڈبل شاہ اور مضاربہ اسکینڈل کا کیس لگتا ہے۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خارجہ اور ایس ای سی پی حکام کو طلب کرلیا۔کمیٹی نے ایف بی آر کو یو اے ای میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کی معلومات کے حصول کا عمل تیز کرنے کی سفارش کردی ۔کمیٹی نے یو اے ای میں تین پاکستانیوں کی انکوائریز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…