بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

زرعی زمین،ہاؤسنگ سکیمز پر نئی پابندیاں،پنجاب میں نئے شہر آباد کرنے کا اعلان کردیاگیا 

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں کسی بھی زرعی زمین پر آئندہ کسی بھی نوعیت کی ہاؤسنگ سکیم بنانے کی اجازت نہیں دے گی اورزمین کو اس کے اصل مقاصد کے لئے ہی استعمال میں لا یا جا سکے گا، اس سلسلے میں قانون بنانے کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جوماہرانہ رائے اور قوانین بارے ڈرافٹ تیار کرے گی

جس کو منظوری کے لئے حکومت کے پاس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں رہائش کے لئے فلیٹ سسٹم کو ترجیح دینے بار ے بھی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ متعین جگہ پر زیادہ ے زیادہ خاندان آباد ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی زمین کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے اگر ابھی سے اس کا تدارک نہ کیا گیا تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔محمد منشاء اللہ بٹ نے مزید کہا کہ صوبہ بھر کے تمام یونین کونسلوں کے سیکر ٹریوں اور چیف آفیسرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ زرعی زمینوں اور سرکاری زمینوں کی مانیٹرنگ کرتے رہیں اور کوئی بھی انویسٹر کسی بھی زرعی زمین پر اپنے مزموم عزائم کرتا پایا جائے کے بارے فوری رپورٹ محکمہ کو ارسال کرے۔انہوں نے کہا کہ تمام محکموں اور تمام بلدیاتی اداروں کے افسران کو بھی پابند کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ایسی کسی بھی ہاؤسنگ سکیم کی منظوری نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افرد کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جا رہا ہے جنہوں نے لیز پر لی سرکاری زمین کو ہاؤسنگ سکیم بنا کر فروخت کر دیا ہے۔ایسے نا سوروں کو کسی صورت معاف نہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں نئے شہر بھی آباد کئے جائیں گے تاکہ پھیلتی ہوئی آبادی کو بکھرنے کی بجائے ایک ہی جگہ پر بہترین ماحول میں ہر قسم کو سہولیت میسر ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…