ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

وہ کونسی طاقت ہے جو ن لیگ کو ٹوٹنے سے بچا رہی ہے، باغی رہنما کس پارٹی میں شمولیت اختیار کرینگے، سہیل وڑائچ کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کے پاس نا اہلی کے بعد دو آپشن تھے ایک یہ کہ وہ چپ کر کے بیٹھ جائیں جو ہو گیا ہے اس کی معافی تلافی کریں اور دوسرا آپشن یہ تھا کہ وہ اپنی سیاسی بقا کی کوشش کریں۔نواز شریف نے دوسرا آپشن منتخب کیا ، ن لیگ ٹوٹ چکی،

فارورڈ بلاکس بن چکے، حیران ہوں کہ اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے، سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازسز شریف اقتدار سے نکل گئے تو ان کے پاس دو آپشنز موجود تھے۔ ایک یہ کہ وہ چپ کر کے بیٹھ جائیں جو ہو گیا ہے اس کی معافی تلافی کریں اور دوسرا آپشن یہ تھا کہ وہ اپنی سیاسی بقا کی کوشش کریں۔نواز شریف نے دوسرا آپشن منتخب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے جب کسی مقتدر انسان کی نا اہلی ہوتی ہے تو جو اچھی خاصی حکومت چل رہی ہو اس میں بھی دھڑے بندی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس صورتحال کے بعد کسی سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک بنیں تو معمول کی بات ہے، ن لیگ بھی ٹوٹ چکی ہے اور اس میں فارورڈ بلاکس بن چکے ہیں۔ میں اس بات پر حیران ہوں کہ اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے۔ن لیگ میں کچھ رہنما ایسے ہیں جن کا اگلا ٹارگٹ الیکشن ہے ، ایسے رہنماؤں کی رسیاں پارٹی سے نہیں بلکہ قومی اسمبلی سے بندھی ہوتی ہیں اور ان کو یہ سوچنا ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں کیسے رہنا ہے؟ وہ کسی ایسی جماعت کا رُخ کریں گے جہاں ان کے جیتنے کا راستہ ہموار ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…