منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گنگا رام ہسپتال کے ایڈمن بلاک کے سامنے بچے کی پیدائش کے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل،قصور وار کون نکلا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 21  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) گنگا رام ہسپتال کے ایڈمن بلاک کے سامنے بچے کی پیدائش کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے رپورٹ مرتب کر کے حکومت کو ارسال کر دی جس میں اس واقعہ کو اتفاقیہ قرار دیتے ہوئے کسی کو بھی ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ گنگا رام ہسپتال میں جمعہ کے روز خاتون بشریٰ بی بی نے ایڈ من بلاک کے سامنے بچے کو جنم دیا تھا ۔

میڈیا میں خبریں آنے کے بعد حکومت کی طرف سے اس کی تحقیقات کیلئے سینئر پروفیسرز پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ڈاکٹروں، نرسز ،پیرا میڈیکل سٹاف، خاتون اور ا سکے اہل خانہ کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ تیار کر کے حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں اپنا چیک اپ کراتی رہی ۔ 20اکتوبر کو خاتون پہلے لیڈی ولنگڈن ہسپتال گئی تاہم اس کے اصرار پر اسے گنگا رام ہسپتال لایا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو یہاں اچھے طریقے سے چیک کیا گیا لیکن وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے باہر گئی اور یہیں اس کو بچے کی پیدائش کے مرحلے کے (درد )شروع ہو گئے اور خاتون کے آتے ہوئے اتفاق سے ایڈ من بلاک کے سامنے بچے کی پیدائش ہو گئی ۔ اس دوران ہسپتال کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اورتمام کیس سر انجام دیا جبکہ خاتون کو فوری لیبر روم میں منتقل کر دیا گیا۔ انکوائری کمیٹی نے کوٹ خواجہ سعید ہسپتال اور لیڈی ولنگڈن ہسپتال کے ڈاکٹروں کے بیانات اور وہاں خاتون کو دی جاین والی علاج معالجے کی سہولیات بارے بھی ریکارڈ چیک کیا جس میں کہیں بھی غفلت نہیں پائی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…