پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

بڑھتے دھماکے،وفاقی حکومت نے بالآخروہ قدم اٹھا ہی لیا جس کا عوام کب سے مطالبہ کر رہے تھے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی حکومت نے صوبوں کو ان کی حدود میں کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے اور ان کے دفاتر، ہتھیاروں اور اثاثوں کو قبضے میں لے کر نگرانی میں رکھنے کی ہدایات جاری کردیں۔وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور وفاقی

دارالحکومت اسلام آباد کے چیف کمشنر کو کی گئی ہدایات میں ان تنظیموں کی مالی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔یہ فیصلہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے سینیٹ میں دیئے گئے موقف کے بعد سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے نام سے کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں اور ان پر نظر رکھیں۔غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق ملک میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 64 ہے جبکہ 4 کو نگرانی میں رکھا گیا تھا۔اس کے علاوہ دیگر دو تنظیموں، جن میں الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ شامل ہیں، کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا۔وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو مذکورہ ہدایات پر فوری عمل درآمد کرانے کے لیے بھی کہا ،صوبائی حکومتوں کو کالعدم تنظیموں کی تحریروں، پوسٹرز، بینرز اور تمام شائع شدہ مواد کو ضبط کرنے کی ہدایت بھی

کی گئی،صوبائی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد، رکن اور رہنما کو بینک یا کسی مالی ادارے کی جانب سے قرض یا مالی سہولت اور کریڈٹ کارڈ جاری نہ کیا جائے۔ اس حوالے سے راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر اسرار احمد

عباسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کو کسی قسم کا مواد شائع یا پریس کانفرنس کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب ایک تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو ان کی سرگرمیاں غیر قانونی قرار دے دی جاتی ہیں، اور اگر کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا

تو نا صرف پولیس بلکہ سی ٹی ڈی بھی ان کے خلاف اے ٹی اے کی تحت کارروائی عمل میں لاسکتی ہے۔سی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس پہلے ہی متعدد کالعدم مذہبی تنظیموں کے ارکان کی نگرانی کررہی تھی۔واضح رہے کہ قانون کے تحت کالعدم تنظیم کی حمایت میں پریس کانفرنس یا عوامی اجتماعات،

اعلامیے اور تحریروں پر پابندی عائد ہے۔اس کے علاوہ صوبوں کو یہ ہدایات بھی کی گئی ہیں کہ وہ ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد، رکن اور رہنما کو بیرون ملک جانے کے لیے پاسپورٹ جاری نہ کریں۔اس کے ساتھ ہی اگر کالعدم تنظیم کے کسی رکن کو ہتھیار رکھنے کا لائسنس جاری کیا گیا

تھا تو اسے منسوخ تصور کیا جائے گا جبکہ مذکورہ ہتھیار فوری طور پر مقامی تھانے میں جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔حکومت کا کہنا تھا کہ اگر وہ مذکورہ احکامات پر عمل درآمد میں ناکام ہوئے تو انہیں پاکستان آرمز آرڈیننس کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے گرفتار کیا

جائے۔یاد رہے کہ وفاق کی جانب سے حال ہی میں دی جانے والی ہدایات انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے1997)کے تحت جاری کی گئیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…