جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

معیشت کا ایشو، حقیقت کیاہے،کیا فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات ختم ہو جائیں گے؟ جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

آج پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کا یوم شہادت ہے‘ لیاقت علی خان کرنال کے نواب تھے‘ یہ تقسیم کے وقت اپنی ساری زمینیں‘ محلات‘ زیورات‘ گاڑیاں اور اکاؤنٹس انڈیا میں چھوڑ آئے تھے اور اس کے بدلے انہوں نے پاکستان میں کوئی کلیم نہیں کیا‘ ان کا واحد سورس آف انکم ان کی تنخواہ تھی اور اس تنخواہ میں ان کا گزارہ بہت مشکل سے ہوتا تھا، ان کے پاس دو شیروانیاں‘ جوتوں کا ایک جوڑا اور تین پائجامے تھے‘

شہادت کے بعد جب ان کی شیروانی اتاری گئی تو ملک کے پہلے وزیراعظم نے شیروانی کے نیچے کرتا نہیں پہنا ہوا تھا بنیان پہن رکھی تھی اور اس میں بھی سوراخ تھے‘ ان کے اکاؤنٹ میں 32 یا 36 روپے تھے‘ پورے ملک میں ان کا کوئی گھر نہیں تھا چنانچہ حکومت نے ان کے خاندان کے نان نفقے کیلئے ان کی بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ میں سفیر لگا دیا‘ بیگم صاحبہ سفارت کے بعد واپس آئیں تو وہ کراچی میں کرائے کے مکان میں رہتی رہیں‘ آج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے روایت کے مطابق لیاقت علی خان کے یوم شہادت پر ایک پیغام جاری کیا‘ وزیراعظم نے فرمایا ’’قوم لیاقت علی خان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کرے‘‘ حضور قوم تو آج بھی لیاقت علی خان کے نقش قدم پر چل رہی ہے‘ مہربانی فرما کر آپ لوگ بھی اب ان کے نقش قدم پر آ جائیں‘ آپ بھی کوئی احساس پیدا کر لیں‘ پاکستان کا کل جی ڈی پی تین سو ارب ڈالر اور برآمدات 20 ارب ڈالر ہیں جبکہ ہالینڈ کا جی ڈی پی 8 سو ارب ڈالر اور برآمدات 570 ارب ڈالرہیں‘ کل اس ملک کا وزیراعظم بادشاہ کو کابینہ کے بارے میں بریفنگ دینے کیلئے سائیکل پر شاہی محل گیا تھا‘ اس کے ساتھ سیکورٹی کی ایک بھی گاڑی نہیں تھی‘ اس نے سائیکل بھی خود پارک کی تھی‘ آپ لیاقت علی خان جیسا مومن نہ بنیں لیکن کبھی کبھار ایک آدھ دن کیلئے ان کافر ملکوں کے کافر حکمرانوں کی طرح ایسا کفرکر لیا کریں تا کہ آپ کی قوم بھی خوش ہو جائے‘

اس کا سینہ بھی فخر سے تن جائے۔ احسن اقبال نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت اور پاک فوج کے درمیان اس وقت کسی قسم کا اور کسی سطح پر ایک بال برابر بھی فرق نہیں، احسن اقبال کی وضاحت آ گئی، ہو سکتا ہے بات ختم ہو گئی ہو لیکن جہاں تک معیشت کے ایشو کی بات ہے‘ یہ ایشو بہرحال موجود ہے‘ ملکی معیشت کو خطرات لاحق ہیں لیکن وزیر خزانہ نہیں مان رہے ، کیا واقعی معیشت مستحکم ہے اگرہاں تو یہ استحکام ہمارے اداروں کو دکھائی کیوں نہیں دے رہا‘ کیا ان جذبات کے ہوتے ہوئے فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات ختم ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…